365 دن (حصہ دوم) — Page 169
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 49 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔169 اسلام کے عروج و زوال کے حقیقی اسباب: ہمارے زمانہ میں جو سوال پیش ہوا کہ کیا وجوہات ہیں جن سے اسلام کو زوال آیا اور پھر وہ کیا ذریعے ہیں جن سے اس کی ترقی کی راہ نکل سکتی ہے اس کے مختلف قسم کے لوگوں نے اپنے اپنے خیال کے مطابق جواب دیئے ہیں مگر سچا جو اب یہی ہے کہ قرآن کو ترک کرنے سے تنزل آیا اور اسی کی تعلیم کے مطابق عمل کرنے سے ہی اس کی حالت سنور جاوے گی۔موجودہ زمانہ میں جو ان کو اپنے خونی مہدی اور مسیح کی آمد کی امید اور شوق ہے کہ وہ آتے ہی ان کو سلطنت لے دے گا اور کفار تباہ ہوں گے۔ان کے خام خیال اور وسوسے ہیں۔ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتداء میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے زیر کیا تھا اسی طرح اب آخری زمانہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلط عطا کرے گانہ تلوار سے۔ہر ایک امر کے لئے کچھ آثار ہوتے ہیں اور اس سے پہلے تمہیدیں ہوتی ہیں ہو نہار بروا کے چکنے چکنے پات بھلا اگر ان کے خیال کے موافق یہ زمانہ ان کے دن پلٹنے کا ہی تھا اور مسیح نے آکے ان کو سلطنت دلائی تھی تو چاہئیے تھا کہ ظاہری طاقت ان میں جمع ہونے لگتی۔ہتھیار ان کے پاس زیادہ رہتے۔فتوحات کا سلسلہ ان کے واسطے کھولا جاتا۔مگر یہاں تو بالکل ہی بر عکس نظر آتا ہے ہتھیار ان کے ایجاد نہیں۔ملک و دولت ہے تو اور وں کے ہاتھ ہے۔ہمت و مردانگی ہے تو اوروں میں۔یہ ہتھیاروں کے واسطے بھی دوسروں کے محتاج۔دن بدن ذلت اور ادباران کے گرد ہے جہاں دیکھو۔جس میدان میں سنوا نہیں کو شکست ہے۔بھلا کیا یہی آثار ہو ا کرتے ہیں اقبال کے ؟ ہر گز نہیں یہ بھولے ہوئے ہیں زمینی تلوار اور ہتھیاروں سے ہر گز کامیاب نہیں ہو سکتے۔ابھی تو ان کی خود اپنی حالت ایسی ہے اور بے دینی اور لامذہبی کا رنگ ایسا آیا ہے کہ قابل عذاب اور مورد قہر ہیں۔پھر ایسوں کو کبھی تلوار ملی ہے ؟ ہر گز نہیں۔ان کی ترقی کی وہی سچی راہ ہے کہ اپنے آپ کو قرآن کی تعلیم کے