365 دن (حصہ دوم) — Page 163
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 45 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔163 پھر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ نماز جو اپنے اصلی معنوں میں نماز ہے دُعا سے حاصل ہوتی ہے غیر اللہ سے سوال کرنا مومنانہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے۔کیونکر یہ مرتبہ دعا کا اللہ ہی کے لئے ہے جب تک انسان پورے طور پر حنیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اسی سے نہ مانگے۔سچ سمجھو کہ حقیقی طور پر وہ سچا مومن اور سچا مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں۔اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں۔جس طرح پر ایک بڑا انجمن بہت سی کلوں کو چلاتا ہے۔پس اسی طور پر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت و سکون تک کو اسی انجن کی طاقت عظمیٰ کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیونکر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہو سکتا ہے؟ اور اپنے آپ کو اني وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ (الانعام:80) کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے منہ سے کہتا ہے دل سے بھی اُدھر کی طرف متوجہ ہو تو لاریب وہ مسلم ہے۔وہ مومن اور حنیف ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھر بھی جھکتا ہے وہ یادرکھے کہ بڑاہی بد قسمت اور محروم ہے کیونکر اس پر وہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھک سکے۔ترک نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ ہے کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جھکتا ہے تو روح اور دل اس کی طرف جھکتا ہے اور روح اور دل کی طاقتیں بھی اس درخت کی طرح جس کی شاخیں ابتداء ایک طرف کر دی جائیں اور پرورش پالیس) ادھر ہی جھک جاتی ہیں اور خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہو کر اُسے منجمد اور پتھر بنا دیتا ہے۔جیسے وہ شاخیں پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتیں۔اسی طرح پر وہ دل اور رُوح دن بدن خدائے تعالیٰ سے دُور ہوتے جاتے ہیں۔پس یہ بڑی خطر ناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔اسی لیے نماز کا التزام اور پابندی