365 دن (حصہ دوم) — Page 153
درس حدیث 153 درس حدیث نمبر 78 حضرت ابوہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ قضَى النَّبِيُّ اللهِ إِذَا تَشَاجَرُوا فِي الطَّرِيْقِ بِسَبْعَةُ أَذْرُعٍ ( بخاری کتاب المظالم والقصاص باب اذا اختلفوا فى الطريق۔۔۔۔۔۔حديث نمبر 2473) ہمارے نبی صلی الی یوم نے جہاں اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی عبادت اور اس کے حقوق کی ادائیگی کے بارہ میں ہمیں جامع اور تفصیلی تعلیم دی ہے وہاں انسانوں کے حقوق اور ان کی بھلائی کے بارہ میں بہت اعلیٰ ہدایات دی ہیں۔انسانوں کے حقوق میں ایک حق راستہ کا حق ہے۔آپ صلی یکم نے راستہ کے بارہ میں نہ صرف توجہ دلائی ہے بلکہ یہ سمجھنا چاہیئے کہ گویا اس کو انسانوں کے بنیادی حقوق میں سے قرار دیا ہے۔آپ صلی علی یکم نے فرمایا کہ جو شخص راستہ کو ناپاک کرتا ہے وہ گو یا لعنت کا خریدار ہے۔آپ صلی علیم نے ایک دفعہ مدینہ کے باشندوں کو توجہ دلائی کہ بہتر ہے کہ وہ سڑکوں کے کنارے نہ بیٹھا کریں۔لوگوں نے عرض کیا ہمارے لئے اس کے بغیر چارہ نہیں۔سڑکوں کے کنارے بیٹھ کر ہی ہم اپنے معاملات کے متعلق گفتگو کرتے ہیں۔آپ صلی اسلام نے فرمایا اگر تم نہیں مانتے تو کم از کم راستہ کا حق دو۔عرض کیا گیار استہ کے حق سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا: نظر نیچی رکھو، سلام کا جواب دو، کسی کے لئے باعث تکلیف نہ بنو ، اچھی بات کا حکم دو اور بری بات سے منع کرو۔( بخاری کتاب المظالم باب افنية الدور والجلوس فيها۔۔۔حديث نمبر (2465) ایک موقعہ پر حضور صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک کانٹے دار ٹہنی چلتے ہوئے دیکھی تو اس نے اس کو ہٹا دیا۔اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو بخش دیا۔( بخاری کتاب الاذان باب فضل التهجير الى الظهر حدیث نمبر 652) حضور صلی الہ وسلم نے فرمایا کہ نیکی کی بہت سی شاخیں ہیں اور ا مَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيْقِ یعنی راستہ سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا بھی نیکی ہے۔(بخاری کتاب الهبة وفضلها باب فضل المنيحة حديث نمبر 2631)