365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 138 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 138

درس حدیث 138 درس حدیث نمبر 66 حضرت ابوہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: بَيْنَمَا كَلْبُ يُطِيْفُ بِرَكِيَّةٍ قَدْ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بِغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ فَنَزَعَتْ مُوْقَهَا فَاسْتَقَتْ لَهُ بِهِ فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ فَغُفِرَ لَهَا به (مسلم کتاب الطب باب فضل ساقى البهائم المحترمة واطعامها حديث نمبر 5861) تیسری دنیا کے بعض ممالک میں جو باتیں ہمیں قابل اصلاح نظر آتی ہیں ان میں ایک بات جانوروں سے حسن سلوک کی کمی ہے۔بعض دفعہ ہمیں یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ ایک ریڑھے پر چارہ وغیرہ لا دا ہوا ہے، گھر والوں نے ایک چھوٹا بچہ اس ریڑھے کو چلانے کے لئے بٹھایا ہوا ہے اور ریڑھے کو ایک دبلا پتلا، سوکھا ہوا گدھا چلا رہا ہے جس کو دیکھ کر یہ احساس ہو تا ہے کہ گدھے کو شاید کچھ کھانے کو بھی نہیں دیا گیا اور وہ کم عمر بچہ اس گدھے کو چلنے پر مجبور کرنے کے لئے سوٹی پر سوٹی مار رہا ہے۔ہمارے نبی صلی ال نیلم نے بار بار جانوروں سے حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے جو حدیث ابھی پڑھی گئی ہے وہ اس مضمون کو خوب بیان کرتی ہے۔حضرت ابو ہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا ایک کتا ایک کنویں کے گرد چکر لگارہا تھا اور بعید نہیں تھا کہ پیاس اس کو ہلاک کر دے کہ بنی اسرائیل کی کنچنیوں میں سے ایک کنچنی نے اسے دیکھ لیا، اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس کے ذریعہ اس کتے کے لئے پانی نکالا اور اس کو پلایا۔اس کنچنی کو اس وجہ سے بخش دیا گیا۔دیکھیں کس طرح بظاہر نظر ایک چھوٹے سے کام کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بظاہر نظر ایک بہت بڑے گناہگار کو مغفرت سے نوازا۔اسی قسم کے ایک بیان پر ہمارے نبی صلی علی کرم کے صحابہ نے حضور سے پوچھا: اِنَّ لَنَا فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا کہ کیا ہمارے لئے جانوروں (سے نیک سلوک) میں بھی اجر ہے۔صلى الم نے فرمایا: فِي كُلِّ كَبِدِ رَطْبَةٍ أَجْرُ کہ ہر جاندار سے نیک سلوک میں اجر ہے۔(مسلم کتاب الطب باب فضل الساقى البهائم والمحترمة واطعامها حديث نمبر 5859)