365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 139 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 139

درس حدیث 139 درس حدیث نمبر 67 حضرت مغیرہ بن شعبہ نے امیر معاویہ کو خط لکھا کہ سَمِعْتُ النَّبِي يا الله يَقُولُ إِنَّ اللهَ كَرِةَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيْلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَ كَثْرَةَ السُّؤَالِ (بخاری کتاب الزکوۃ باب قول الله تعالى لا يسألون الناس الحاف۔۔۔حديث نمبر 1477) اس حدیث میں ہمارے نبی صلی اللہ کریم نے معاشرہ میں پائی جانے والے تین کمزوریوں سے اللہ تعالیٰ کی نفرت و کراہت کا ذکر فرمایا ہے اور تینوں کمزوریوں ایسی ہیں جو انسانی معاشرہ کے لئے حد درجہ نقصان دہ اور جسمانی اور روحانی طور سخت مضر ہیں۔پہلی بات جس کے متعلق ہمارے نبی صلی علی کرم فرماتے ہیں کہ اللہ اس سے کراہت کرتا ہے وہ قیل و قال یعنی بے کار باتیں اور بے فائدہ گفتگو ہے ذرا سا غور کرنے والا مشاہدہ کرنے والا انسان سمجھ سکتا ہے کہ بے کار باتیں اور بے تحقیق گفتگو کس طرح معاشرہ کے امن و چین کو برباد کر سکتی ہیں، کس طرح دنیا میں فساد و بگاڑ پیدا کر سکتی ہیں۔کس طرح افراد خاندانوں، اداروں بلکہ ملکوں کے تعلقات کو بگاڑ سکتی ہیں۔اور کس طرح نوجوانوں کے قیمتی وقت کو جو محنت اور جانفشانی کا وقت ہو ضائع کر سکتی ہیں۔دوسری بات جس کے بارہ میں ہمارے نبی صلی علیم نے فرمایا کہ اللہ اسے نا پسند کرتا ہے إضَاعَةُ الْمَالِ ہے۔مذہب جہاں مال کی محبت سے منع کرتا ہے وہاں مال کے غلط استعمال اور فضول خرچی سے بھی سختی سے روکتا ہے۔قرآن شریف میں وضاحت ہے کہ مال اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے قیام یعنی ان کے سہارے کا ذریعہ بنائے ہیں اور فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔تیسری بات جس کے متعلق ہمارے نبی صلی علی کنیم فرماتے ہیں کہ اللہ کو ناپسند ہے کثرت سوال ہے۔کثرت سوال کے دو معنے ہیں ایک بہت مانگنا دوسرے پوچھنا۔بہت مانگنے کا مطلب ہے کہ محنت اور کوشش کر کے حلال کمائی کے بجائے لوگوں سے مانگ مانگ کر اپنا پیٹ پالنا اور دوسرا بہت پوچھنے سے مراد یہ ہے کہ علمی باتوں پر غور و فکر کر کے سچائی معلوم کرنے کے