365 دن (حصہ دوم) — Page 131
درس حدیث 131 درس حدیث نمبر 59 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ النُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ( بخاری کتاب الصوم باب من لم يدع قول الزور والعمل به في الصوم حدیث نمبر 1903) رمضان المبارک کے روزے رکھ کر صبح سے شام تک کچھ نہ کھانا نہ پینا اور بھوک اور پیاس کا مقابلہ کرنا خصوصاً بعض علاقوں میں جہاں سخت گرمی پڑتی ہے اور دن بھی 18،17 گھنٹے کا ہو جاتا ہے ایک زبر دست مجاہدہ ہے اور اللہ کے فضل سے سچے مومن اس مجاہدہ میں پورے اترتے ہیں۔مگر حضور صلی للی کم کی جو حدیث مبارکہ پڑھی گئی ہے اس میں ایک زبر دست انذار بھی ہے۔بعض لوگ روزہ رکھتے ہیں بھوک اور پیاس کی تکلیف برداشت کرتے ہیں لیکن اگر تاجر ہیں تو سودے میں خیانت کے مرتکب بھی ہو جاتے ہیں، افسر ہیں تو رشوت لینے سے گریز نہیں کرتے، زمیندار ہیں تو دوسروں کی زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں۔طالبعلم ہیں تو امتحان دیتے ہوئے نقل کرتے ہیں، استاد ہیں تو اپنی گھنٹی میں سنجیدگی کے ساتھ پڑھانے کے بجائے بے کار باتیں کر رہے ہوتے ہیں، خاتون خانہ ہیں تو اپنی ہمسائی خواتین کی عیب شماری کر رہی ہوتی ہیں، گواہ ہیں تو جھوٹی گواہی دے رہے ہوتے ہیں، ڈرائیور ہیں تو ٹریفک کے قواعد کی پابندی نہیں کرتے، اگر حکیم ہیں تو غلط دوائی تجویز کرتے ہیں، اگر پنساری ہیں تو ناقص دوائی مریض کو مہیا کرتے ہیں، اگر دودھ فروش ہیں تو اس میں پانی ملا دیتے ہیں، اگر مولوی ہیں تو جھوٹے فتاویٰ دیتے ہیں بلکہ نکاح پر نکاح پڑھا دیتے ہیں۔ہمارے نبی صلی کریم نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ جو جھوٹی بات نہیں چھوڑتا، جھوٹی بات پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ (روزہ رکھ کر) اپنا کھانا پینا چھوڑے۔