365 دن (حصہ دوم) — Page 128
درس حدیث 128 درس حدیث نمبر 56 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أُتِي بِلَبَنٍ قَدْ شِيْبَ بِمَاءٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِى وَعَنْ شِمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ الْأَيْمَنَ الْأَيْمَنَ م الله (بخاری کتاب الاشربة باب الأيمن فالأيمن في الشرب حديث نمبر 5619) قرآن شریف میں اچھے لوگوں کا ذکر دائیں طرف والوں کے طور پر کیا گیا ہے اور نابکار لوگوں کا ذکر بائیں طرف والوں کے طور پر کیا گیا ہے۔یہ ایک قدرتی انداز ہے دو گواہوں کو الگ الگ کر کے دکھانے کا۔ہمارے نبی صلی ا یکم جو کام بجا لاتے اس کو اگر دائیں اور بائیں دونوں طرف سے شروع کیا جا سکتا ہو تو حضور صلی الیہ کی بہت باقاعدگی سے دائیں طرف سے ابتداء کرتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی ل کی اپنے کاموں میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔اگر اجتماعی طور پر کھانا پینا ہو تو اس میں بھی حضور صلی ا یہ پسند فرماتے کہ درمیانی بزرگ کے بعد ڈش وغیرہ دائیں طرف چلایا جائے۔حضرت انس بن مالک جن کو لمبا عرصہ حضور صلی للی نیلم کی خدمت کا موقع ملا، بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی ا کرم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا ہمارے ملک میں غالباً اس کو کچی لسی کہتے ہیں) حضور صلی اللہ ﷺ نے اس میں سے کچھ پیا اس وقت حضور صلی الی یکم کے دائیں ہاتھ ایک بدو بیٹھا ہوا تھا اور بائیں ہاتھ حضرت ابو بکر تشریف فرما تھے۔آپ نے اس دودھ میں سے کچھ پیا پھر اپنے دائیں ہاتھ بیٹھے ہوئے بدو کو پینے کے لئے دیا اور اس کی وجہ کی وضاحت بھی یہ کہہ کر فرما دی کہ الْأَيْمَنَ الْأَيْمَنَ دائیں طرف پھر دائیں طرف۔سة