365 دن (حصہ دوم) — Page 112
درس حدیث 112 درس حدیث نمبر 42 ہمارے نبی صلی الی یوم کے ایک صاحبزادہ کا نام ابراہیم تھا آپ چھوٹی عمر میں فوت ہو گئے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ جب صاحبزادہ ابراہیم کی وفات ہوئی تو ہمارے نبی صلی الیکم نے فرمایا: اِنَّ الْعَيْنَ تَطْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا۔کہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہے مگر ہم زبان سے صرف وہی بات نکالتے ہیں جو ہمارے رب کو راضی کرے۔( بخاری کتاب الجنائز باب قول النبى الله الله انا بك لمحزونون حديث نمبر 1303) ہمارے نبی صلی اللی نیلم کے اس صبر وضبط کے عظیم نمونہ میں آپ کی امت کے لئے ایک عظیم الشان سبق ہے راقم الحروف نے ایک ہسپتال میں ایک مریض کے مرنے پر ایک ایسا تکلیف دہ نظارہ دیکھا کہ بڑی تعداد میں مسلمان کہلانے والی عور تیں رونا پیٹنا، ماتم ، نوحہ میں مصروف تھیں اور ہاتھ لمبے کر کر کے اور آسمان کی طرف اٹھا کر شکوہ شکایت کے ناپاک کلمات بلند آواز سے بول رہی تھیں اور یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ آپ صلی علی یلم کی امت میں وہ لوگ اور بھی ہیں جو قرآن کریم کی صبر کے بارہ میں بار بار دی گئی تعلیم کو بھلا کر دو ہتر مارتے اور خنجر سے اپنے آپ کو زخمی کرتے اور روتے پیٹتے ہیں اور اس چند دن کے ماتم کے بعد پھر سارا سال ہر قسم کی راحت و آرام اور عیش و تفریح میں گزارتے ہیں۔نہیں کہ وہ غم دس راتوں کے بعد پھر عیاشی کی زندگی میں کس طرح بدل جاتا ہے اور عیش و عشرت کی زندگی کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور سال کے بعد پھر وہ دس راتیں جب آتی ہیں۔تو آنسو بہتے ہیں اور سینہ کوبی کی جاتی ہے ، خون بہایا جاتا ہے بازاروں میں اور گلیوں میں اچھل کو دکر کے غم کا اظہار کیا جاتا ہے اور نماز با جماعت بھول جاتی ہے۔معلوم