365 دن (حصہ دوم) — Page 111
درس حدیث 111 درس حدیث نمبر 41 حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى ال ولم نے فرمایا: لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُوْمُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَ آنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ (مسلم کتاب الصلاة باب فضل من يقوم بالقرآن و يعلمه۔۔۔حديث نمبر (266) لوگ جب کسی شخص کو دیکھتے ہیں جو کسی بڑی کو ٹھی میں رہتا ہے تو حسد سے یہ کہتے ہیں کہ کاش ایسی کوٹھی ہمارے پاس بھی ہوتی۔اگر کسی کو چمکتی دمکتی تیز رفتار موٹر میں جاتے ہوتے دیکھتے ہیں تو خواہش کرتے ہیں کہ ان کے پاس بھی ایسی موٹر ہو۔کسی کو اعلیٰ کپڑے کا اچھا سلا ہوا سوٹ پہنے ہوئے پاتے ہیں تو تمنا کرتے ہیں کہ ان کے پہنے کے لئے ایسے سوٹ ہوں۔کسی خوبصورت کو دیکھتے ہیں تو تڑپتے ہیں کہ وہ بھی خوبصورت ہوتے۔اگر کسی کے ہاں اولاد نہ ہو ی نرینہ اولاد نہ ہو تو چاہتے ہیں کہ ان کو بھی اولاد ملے۔غرض ہر دنیوی نعمت کو دیکھ کر جو ان کے پاس نہ ہو اور کسی دوسرے کے پاس ہو اپنا دل برا کرتے ہیں اور رشک کرتے ہیں بلکہ حسد کرتے ہیں۔ہمارے نبی صلی اللی یکم نے اس حدیث میں بہت پیاری نصیحت کی ہے جو انسان کے دین کو بھی سنوارتی ہے اور اس کے دل کی تکلیف اور جلن کو بھی دور کرتی ہے آپ نے فرمایا کہ لا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ کہ رشک تو صرف دو آدمیوں پر ہی ہو سکتا ہے اور ہونا چاہئے دوسروں پر رشک درست نہیں رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ الْقُرْآنَ ایک تو وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن دیا ہے قرآن کا علم عطا کیا ہے فَهُوَ يَقُوْمُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ اور وہ اس قرآن کے ذریعہ رات کی گھڑیوں میں بھی عبادت کرتا ہے اور آنَاءَ النَّهَارِ اور دن کی گھڑیوں میں بھی قرآن کے ذریعہ عبادت کرتا ہے قرآن پڑھتا ہے، پڑھاتا ہے، اس پر غور کرتا ہے، اس کے احکام پر عمل کرتا ہے، ایسے دو شخصوں پر رشک تو جائز ہے باقی لوگوں پر رشک صرف دل کو جلانے والی بات ہے۔دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہے اور وہ اس کو بے دھڑک خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔