365 دن (حصہ اول) — Page 93
درس القرآن رس القرآن نمبر 75 93 وَقَالُوا لَنْ يَدخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا اَوْ نَصْرى تِلْكَ آمَانِتُهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُم صدِقِينَ (البقرة: 112) گزشتہ آیت میں بنی اسرائیل کے اسلام سے انکار اور مسلمانوں کے خلاف لمبی کوشش کے مقابلہ میں ہدایت دی تھی کہ تم صبر سے کام لیتے ہوئے ان سے معافی اور در گزر کرنے کا سلوک کرو اور ان کے مقابلہ کے لئے نماز با جماعت اور ادائیگی زکوۃ سے کام لو۔آج کی آیت میں اہل کتاب کی ایک اور شرارت کا ذکر کر کے اس کی تردید فرمائی ہے ، فرماتا ہے: وہ کہتے ہیں کہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہو گا۔سوائے ان کے جو یہودی ہوں یا عیسائی ہوں۔یہود کا خیال تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کی چنی ہوئی قوم ہیں اور اللہ کی رحمت کے تمام وعدے انہیں کے لئے ہیں اور عیسائیوں کا خیال تھا کہ مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت نے ان کی تمام گناہوں کی سزا سے بچنے کا سامان کر دیا ہے اس لئے یہ دونوں قومیں اس بات کی دعویدار تھیں کہ جنت میں صرف ہم ہی جاسکتے ہیں۔یہود اور عیسائیوں کے اسی نظریہ کی مؤثر رنگ میں تردید کرنا اس لئے ضروری تھا کہ عام سادہ دل آدمی کے لئے یہ خیال بہت ہی دل لبھانے والا ہے کہ جنت میں جانے کا بہت آسان اور ستا ذریعہ بتایا جارہا ہے کہ نہ تمہیں اقامت صلوۃ کی پانچ دفعہ تکلیف اٹھانی پڑے گی، نہ مال کی ادائیگی کی پابندی کرنا ہو گی اور مفت جنت ملے گی۔یہودیت میں تو صرف نام لکھانا ہو گا اور عیسائیت میں اپنے تمام گناہوں کا بوجھ مسیح کی صلیبی موت پر ڈال دینا ہو گا اور جنت کا دروازہ کھل جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے آیت کے آخر میں صرف دو فقروں میں اس جھوٹے تصور کا تانا بانا کاٹ کر رکھ دیا ہے فرماتا ہے تِلْكَ آمَانِتُهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُم صدِقِینَ یہ تو محض ان کی آرزوئیں ہیں، تمنائیں ہیں، خواہشیں ہیں، کیا جنت میں جانے جیسے عظیم الشان مقصد کے لئے صرف آرزو اور تمنا اور خواہش کافی ہے۔کیا دنیا کے بڑے بڑے مقاصد میں کامیابی صرف تمنا کرنے سے حاصل ہو جاتی ہے۔کیا اس کے لئے صحیح تکنیک، صحیح عقیدہ، صحیح عمل کی ضرورت نہیں ہوتی۔پھر جنت میں جانے کے لئے صرف نفس کی خواہش کس طرح کافی ہو سکتی ہے۔پھر فرمایا اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ جنت میں یہود اور عیسائیوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا تو اس کے لئے جس میں یہ دعویٰ ہے تو سامنے لاؤ تمہاری خواہشات اور محض تمہارے بے دلیل دعوؤں سے تو تمہاری بات سچی نہیں ہو سکتی۔