365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 94 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 94

درس القرآن 94 درس القرآن نمبر 76 عَلى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنُ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : 113) یهود و نصاریٰ کے اس دعویٰ کی قلعی کھولنے کے بعد کہ جنت میں کوئی داخل نہ ہو گا سوائے اس کے کہ وہ یہودی ہو یا عیسائی ہو اب اس آیت میں جنت میں داخل ہونے کے مستحق ہونے کا بنیادی اصول بہت خوبصورت الفاظ میں بیان فرماتا ہے جو حکمت اور دانائی اور معقولیت سے بھر پور ہے کہ جنت میں داخل ہونے کا تعلق نہ کسی نسل سے ہونے سے وابستہ ہے نہ کسی شخص کی اپنی قربانی کے بجائے کسی اور کی قربانی اور کسی اور کے صلیب پر مرنے سے ہے بلکہ اس کا تعلق دو باتوں سے ہے نمبر ایک مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ سے اور نمبر دو(2) وَهُوَ مُحْسِنُ سے۔ان دونوں باتوں کی تشریح ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت بلند پایہ اور نہایت لطیف اور نہایت خوبصورت رنگ میں اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام میں فرمائی ہے اس کو ہم یہاں تفصیل سے تو درج نہیں کر سکتے اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ اس کو پڑھیں اور اس پر عمل کریں اور اس کی خوبصورتی کا مزہ اٹھائیں۔مگر اس کی برکت سے فائدہ اٹھانے کے لئے ہم آپ کی عبارت کا کچھ حصہ یہاں درج کرتے ہیں۔بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ کی تشریح میں آپ فرماتے ہیں:۔” ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کو ہی اپنا معبود اور مقصود اور محبوب ٹھہرایا جاوے اور اس کی عبادت اور محبت اور خوف اور رجا میں کوئی دوسر اشر یک باقی نہ رہے اور اس کی تقدیس اور تسبیح اور عبادت اور تمام عبودیت کے آداب اور احکام اور اوامر اور حدود اور آسمانی قضا و قدر کے امور بدل و جان قبول کئے جائیں اور نہایت نیستی اور تذلل سے ان سب حکموں اور حدوں اور قانونوں اور تقدیروں کو بارادت تام سر پر اٹھا لیا جاوے اور نیز وہ تمام پاک صداقتیں اور پاک معارف جو اس کی وسیع قدرتوں کی معرفت کا ذریعہ اور اس کی ملکوت اور سلطنت کے علو مر تبہ کو معلوم کرنے کیلئے ایک واسطہ اور اس کے آلاء اور نعماء کے پہچاننے کیلئے ایک قومی رہبر ہیں بخوبی معلوم کر لی جائیں۔66 (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 60)