365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 69 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 69

درس القرآن درس القرآن نمبر 56 69 فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَبَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثمَنًا قَلِيلًا فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ ( البقرة :80) بنی اسرائیل کی سرکشیوں اور نافرمانیوں اور اس سلسلہ میں ان کی مسلمانوں سے کش مکش کا بیان اور کلام الہی کے بارہ میں ان کی شرارتوں کا بیان جاری ہے اور اس آیت میں فرماتا ہے کہ ان میں وہ لوگ ہیں جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں پھر اس کو خدا کی طرف منسوب کر دیتے ہیں فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَبَ بِاَيْدِ یھم پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے لِيَشْتَرُوا به تمنا قليلا اور اس گناہ کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی دولت اور ساز و سامان کو جو بالکل بے حیثیت اور معمولی قیمت کا ہے، حاصل کریں فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ فرماتا ہے جو وہ اپنی طرف سے اپنے ہاتھوں سے تحریرات اور مضامین لکھتے ہیں وہ بھی ان کے لئے باعث ہلاکت ہیں ان کی یہ تحریرات جو کلام الہی کی تحریف کر کے انہوں نے اپنے ہاتھ سے ڈالی ہیں ان کو دینی بلکہ دنیوی طور پر بھی سخت نقصان پہنچایا ہے وَوَيْلٌ لَهُمْ مِنَا يَكْسِبُونَ اور جو کمائی وہ ان تحریرات سے کرتے ہیں وہ بھی ان کے لئے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہے۔ان نصیحتوں کے جواب میں بنی اسرائیل جو بہانے بناتے ہیں ان میں سے ایک بہانہ یہ ہے وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا معدودة کہ ہمیں آگ ہر گز نہ چھوٹے گی مگر گنتی کے چند دن، یہودیوں میں یہ تصور تھا کہ ہم خدا کی چنیدہ قوم اور اس کی محبوب قوم ہیں باقی دنیا تو اپنے برے اعمال کا نتیجہ بھگتے گی۔مگر ہمیں سزا یا تو نہیں ملے گی یا ملی بھی تو بالکل معمولی دو چار دن کے لئے۔فرماتا ہے ان سے پوچھو قل اتَّخَذْتُم عِنْدَ اللهِ عَهْدًا کیا تم نے اس بارہ میں اللہ سے کوئی عہد باندھا ہوا ہے فَلَنْ يُخْلِفَ اللهُ عهدة اس صورت میں اللہ تو اپنے عہد کی عہد شکنی نہیں کرے گا آم تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تعلَمُونَ (البقرة:81) یا تم خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کر رہے ہو جن کا تمہیں علم نہیں۔