365 دن (حصہ اول) — Page 68
درس القرآن 68 درس القرآن نمبر 55 اَوَلَا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ (البقرة:78) اس سے پہلی آیت میں یہ مضمون تھا کہ بنی اسرائیل کے جو لوگ مسلمانوں سے ملتے اور مسلمانوں کی مجلس میں آتے اور مذہبی امور پر ان سے باتیں کرتے ہیں ان کا رویہ منافقانہ ہوتا ہے۔مسلمانوں کے سامنے وہ اپنی طرف سے ان کو دھوکہ دینے کے لئے ایسی باتیں بھی کر جاتے ہیں جو بعض دفعہ مسلمانوں کے حق میں جاتی ہیں اور بائبل کی پیشگوئیوں کا بھی ذکر ان کی گفتگو میں آجاتا ہے۔مگر جب یہ لوگ ایسی مجالس میں جاتے ہیں جو خالصہ ان کے اپنے لوگوں پر مشتمل ہو تو ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہیں کہ اس معاملہ میں احتیاط کریں اور مسلمانوں کے سامنے ایسی باتوں کا تذکرہ نہ کریں جو مسلمانوں کی طرف سے ان کے خلاف بطور دلیل پیش ہو سکے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا وہ نہیں جانتے کہ یقینا اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔تو کیا وہ خدا ان کے اس دہرے رویہ سے غافل ہے اور اس کو ان کی اس ڈبل گیم کا پتہ نہیں۔آگے چل کر فرماتا ہے کہ ان میں تو ایسے لوگ بھی ہیں مِنْهُمُ امّون ان میں ایسے لوگ ہیں جو بالکل لاعلم ہیں خود اپنی کتاب سے اور اس کے معارف و مطالب سے بھی واقف نہیں لا يَعْلَمُونَ الْكِتَبَ إِلَّا أَمَانِی وہ اپنی کتاب کو بھی اپنی امیدوں اور خواہشات کی حد تک ہی جانتے ہیں۔اصل کتاب کیا کہہ رہی ہے اس سے غافل ہیں جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ اصل کتاب نہیں بلکہ ان کے ذاتی خیالات ہیں وَإِنْ هُم الا يظُنُّونَ (البقرة: 79) اور وہ صرف اپنے ذاتی خیالات اور اپنی قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ان آیات میں قرآن شریف نے بائبل کے ماننے والوں کی کیسی زبر دست تردید کر دی ہے کہ اپنے مذہب اور اپنی کتاب کی نمائندگی کے طور پر جو باتیں وہ پیش کرتے ہیں وہ صرف ان کے اپنے خیالات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جملہ مذاہب کی طرف سے بحث کرنے والے نمائندگان کے سامنے یہ شرط رکھی کہ وہ اپنا دعویٰ بھی اپنی کتاب مقدس سے پیش کریں گے اور اس دعویٰ کی عقلی دلیل بھی اپنی کتاب سے پیش کریں گے مگر کوئی اس شرط پر پورا نہ اترا۔