365 دن (حصہ اول) — Page 67
درس القرآن 67 درس القرآن نمبر 54 وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا أَمَنَا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالُوا الْحَدِثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُوكُم بِهِ عِندَ رَبِّكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (البقرة: 77) گزشتہ آیت سے بنی اسرائیل کی سرکشی اور نافرمانی کو ایک اور پہلو سے بیان کرنا شروع کیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بنی اسرائیل پر احسانات کے باوجود ان کی نافرمانیوں اور سرکشیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس مسلمانوں کی جماعت سے جن کو ہمارے نبی صلی ا ہم کو ماننے اور قرآن شریف پر ایمان لانے کی سعادت نصیب ہوئی ہے اس جماعت مومنین سے بھی بنی اسرائیل نے کش مکش کا آغاز کیا ہوا ہے۔گزشتہ آیت میں یہ بتایا که مومن تو یہ طمع کر رہے تھے کہ بنی اسرائیل ان مومنوں کی بات مان لیں گے مگر ان کا یہ حال ہے کہ مومنوں کی بات تو کیا مانا وہ تو کلام الہی میں خواہ وہ ان کے اپنے انبیاء پر نازل ہونے والا کلام ہو یا ہمارے نبی صلی یکیم پر اترنے والا کلام مجید ہو اس میں تحریف کرتے اور الٹے پلٹے معنے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔آج کی آیت میں یہ مضمون ہے کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ مومنوں کی جماعت کے آدمیوں سے ملتے جلتے ہیں ان سے مذہبی امور پر گفتگو بھی کرتے ہیں اور لازماً مسلمانوں سے گفتگو میں یہ موضوع بھی زیر بحث آتا ہے کہ بائبل میں قرآن مجید اور آنحضرت صلی ایم کے بارہ میں کیا پیشگوئیاں درج ہیں۔مگر یہی لوگ جب خالصہ اپنی مجالس میں جاتے ہیں تو وہ تھوڑا بہت اقرار جو مسلمانوں کے سامنے کرتے ہیں وہ بھی غتر بود ہو جاتا ہے کیونکہ ان کے ہم مذہب ان کو یہ سمجھاتے ہیں کہ تم کیا نادانی کرتے ہو کہ مجلس بحث و مباحثہ و گفتگو میں مسلمانوں کے سامنے ان باتوں کی موجودگی کا اقرار کر لیتے ہو جن کو مسلمان اپنے حق میں پیش کر سکتے ہیں۔اس مضمون کو اس آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جب یہ لوگ مومنوں سے ملتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم مومن ہیں اور جب ایک دوسرے سے علیحدگی میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے کو الزام دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا تم انہیں وہ بات جو اللہ نے تم پر کھولی ہے بتاتے ہو جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اس کے ذریعہ سے تمہارے رب کے حضور تم سے بحث کریں گے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔۔مة الله سة۔