365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 21 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 21

درس القرآن درس القرآن نمبر 17 21 قرآن شریف میں ایسے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جو زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر دل میں ایمان نہیں لاتے بلکہ اسلام کا انکار کرتے ہیں، فرماتا ہے: وَاذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَ إِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ اللَّهُ , يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ (البقرة:15،16) یعنی یہ منافق جو دل میں نہیں مانتے اور صرف زبان سے کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں جب وہ مسلمانوں کے پاس جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں مگر جب اپنے شیطانی سر داروں سے علیحدہ ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو صرف ہنسی ٹھٹھا سے کام لے رہے ہیں، فرماتا ہے کہ اللہ ان کو ان کے ہنسی ٹھٹھا کی سزا دے گا اس وقت اللہ نے ان کو کچھ مہلت دی ہوئی ہے اور وہ اپنی شرارت اور سرکشی میں بھٹک رہے ہیں۔قرآن شریف کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ منافق جو ہنسی ٹھٹھے سے کام لے رہے ہیں، سمجھتے ہیں کہ وہ سزا سے بچ جائیں گے ، اگلے جہاں کی سزا کے متعلق تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ کیا پتہ اگلا جہان ہے بھی یا نہیں اور وہاں منافقوں کو سزا ملے گی بھی یا نہیں ؟ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کے نبیوں کے مقابلہ میں جو منافق آتے ہیں وہ اس دنیا میں بھی سزا پاتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جیسا کہ بائبل سے معلوم ہوتا ہے ان کا مقابلہ کرنے والے منافق بری طرح ناکام ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فتح ہوئی۔حضرت عیسی علیہ السلام سے منافقت کرنے والا یہوداہ اسکر یوطی 30 روپیہ لے کر اس نے دھوکہ دیا مگر بالآخر اس نے خود کشی کر لی اور ہمارے نبی صلی الی یوم کے زمانہ میں عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کا کئی سو کا ٹولہ نہ صرف یہ کہ بری طرح ناکام ہوا بلکہ اس کے مرنے کے بعد اس کے ٹولہ کے ساتھی رسول اکرم صلی اینیم کے اخلاق اور آپ صلی علیہ یکم کی فتوحات کو دیکھ کر یا سچے دل سے مسلمان ہو گئے یا مدینہ چھوڑ کر چلے گئے اور اس بات کو گزشتہ سو سال سے ہم اپنے اندر بھی دیکھ رہے ہیں۔الله