365 دن (حصہ اول) — Page 43
درس القرآن 43 رس القرآن نمبر 36 يبَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَ ايَّايَ فَارهَبُونِ (البقرة:41) اس بنیادی مسئلہ کو حل کرنے کے بعد کہ ہمارے نبی صلی ا یکم کی بعثت اور قرآن شریف کی تعلیم کا اس روحانی دور سے کیا تعلق ہے اور کیا یہ کوئی نئی تعلیم ہے اور پہلی تعلیم سے بالکل مختلف ہے اس سوال کا یہ جواب دے کر کہ آنحضرت صلی للی یکم اور قرآن شریف آدم کے ذریعہ شروع ہونے والے دور کا سب سے بلند اور سب سے اعلیٰ مرحلہ ہے اب اس سوال کا جواب دیا ہے کہ اس تعلیم کا بنی اسرائیل کی تعلیم سے کیا تعلق ہے جو دنیا کی مذہبی تاریخ میں بہت اونچا مقام رکھتی ہے اس آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب کر کے فرماتا ہے یہ بظاہر نئی تعلیم اس عظیم الشان نعمت کو تمہیں یاد کرانے کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کی تھی اور اس تعلیم کے ذریعہ تم سے ایک عہد لیا گیا تھا کہ تمہارے بھائیوں میں سے اللہ تعالیٰ ایک نبی بھیجے گا جو تمہارے نبی کا مثیل ہو گا اور اللہ اس کے منہ میں اپنا کلام (یعنی قرآن شریف) ڈالے گا اور اس نبی کو نہ ماننے والے سے حساب لیا جائے گا۔(استثناء 18/18) و اس آیت میں اس عہد کی طرف اشارہ ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا اور اس آیت میں فرمایا ببنی اسراءیل کہ اے بنی اسرائیل اذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ اللہ نے تم پر اپنی بڑی نعمت اتاری تھی تم میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی جیسے نبی بھیجے تو رات اور انجیل جیسی کتابیں تمہیں دیں۔اب جبکہ تم ان کی تعلیم کو بگاڑ چکے ہو تو تمہارا فرض ہے کہ تم سے جو عہد لیا گیا تھا کہ اس کو پورا کرو تو میں بھی اس عہد کو جو تم سے کیا تھا پورا کروں گا وَ اِيَّايَ فَارْهَبُونِ تم اپنی قوم سے ڈر کر ، دنیا والوں سے ڈر کر اس سچائی کو جو رسول اللہ صلی علیم کے ذریعہ آئی ہے مان نہیں رہے حالانکہ تمہیں صرف مجھ سے ڈرنا چاہئے۔