365 دن (حصہ اول) — Page 26
درس القرآن رس القرآن نمبر 21 26 قرآن شریف نے شروع میں ذکر فرمایا ہے کہ اس کے اترنے کے ساتھ لوگ بالعموم تین حصوں میں بٹ جاتے ہیں ایک تو وہ جو تقویٰ رکھتے ہیں اور قرآن پر ایمان لاتے ہیں ان میں مومنوں کی صفات پائی جاتی ہیں پھر وہ لوگ ہیں جو کھلم کھلا صاف طور پر انکار کرتے ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ یکم جتنا بھی سمجھائیں وہ نہیں مانتے۔تیسرے وہ لوگ ہیں جو زبان سے مسلمان ہونے کا اقرار کرتے ہیں مگر دل میں انکار کرتے ہیں یہ لوگ ہیں جو منافق کہلاتے ہیں۔یہ دو قسم کے ہیں ایک تو پکے منافق ہیں ، دل سے پوری طرح انکار کرنے والے اور زبان سے پوری طرح اقرار کرنے والے۔دوسرے وہ جو ایمان تو ایک حد تک رکھتے ہیں مگر ساتھ ہی کمزوریاں بھی لگی ہوئی ہیں۔جیسا کہ گزشتہ درسوں میں ذکر ہوا تھا مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا (البقرة : 18) کہ ان کی مثال اس شخص کی مثال کی طرح ہے جس نے آگ جلانا چاہی۔اس آیت میں منافقوں کا ذکر ہے، مگر اس آیت میں ہے کہ اُو كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ (البقرة:20) اس بارش کی طرح جس میں اندھیرے اور گرج اور بجلی ہے ان کمزوروں کا ذکر ہے جو ایمان رکھتے ہوئے ابتلاؤں کے اندھیروں اور کڑک اور بجلی سے کمزوری محسوس کرتے ہیں۔آج کے درس میں بھی ان لوگوں کا مزید ذکر ہے ، فرماتا ہے يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ ابصارهم کہ بعید نہیں کہ بجلی کی چمک ان کی نظروں کو اچک کر لے جائے كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مَشَوافِيْهِ جب کبھی وہ چپکتی ہے تو یہ لوگ اس میں چلنے لگتے ہیں یعنی جس وقت ایسی جماعت پر کچھ نسبتا سہولت اور آرام کا وقت آتا ہے تو وہ جماعت کی چال کے ساتھ اپنی چال ملانے کی کوشش کرتے ہیں وَ إِذَا أَظلَم عَلَيْهِمْ قَامُوا مگر جب وہ بجلی ان پر اندھیرا کرتی ہے یا اگر خطرہ کا باعث بنتی ہے تو پھر جماعت کے ساتھ قدم بقدم نہیں چل سکتے ، ٹھہر جاتے ہیں اور پہلے پکے منافقین کے گروپ کے مقابلہ میں ان کے کان اور آنکھیں محفوظ ہیں۔مگر وَ لَوْ شَاءَ اللهُ لَذَهَبَ بِسَبْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ مگر اگر ان کے گناہوں اور کمزوریوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مناسب سمجھا تو بعید نہیں کہ ان کی سننے کی طاقت بھی لے جائے اور دیکھنے کی طاقت بھی اِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ ( البقرة : 21) یقینا اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔