365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 86 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 86

درس القرآن 86 رس القرآن نمبر 70 مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزِّلَ عَلَيْكُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ ربَّكُم وَاللهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (البقرة:106) بنی اسرائیل کے اس حسد اور جلن کا ذکر جاری ہے جو ان کو حضور صلی یم اور قرآن سے تھا۔فرماتا ہے کہ اہل کتاب میں سے انکار کرنے والے اور مشرک بھی یہ نہیں چاہتے کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے کوئی خیر اتاری جائے (کیونکہ وہ اپنے آپ کو خدائی ٹھیکہ دار سمجھتے ہیں) حالا نکہ اللہ جسے چاہے، جس کو مناسب سمجھے اپنی رحمت خاص سے متمتع فرماتا ہے۔دراصل یہ مخالفین اللہ کے فضل کو اپنے تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ اللہ کا فضل بہت وسیع ہے ، بہت بڑا ہے ، ساری دنیا ہی اس کی دنیا ہے، ساری انسانیت ہی اس کی مخلوق ہے، سب قومیں اسی کی پیدا کر دہ ہیں۔اگر بنی اسرائیل اس کے حکم پر عمل نہیں کرتے تو وہ کوئی حق نہیں رکھتے کہ اس کے صرف وہی اس کے فضل کے وارث ہوں دوسری قوموں پر بھی خدا اپنے عظیم فضل سے اپنی رحمت نازل کر سکتا ہے۔حضرت مصلح الموعود اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔”نہ اہل کتاب اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ تم پر خدا کا فضل نازل ہو اور نہ ہی مشرک۔وہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں جن کی وجہ سے تم محمد رسول اللہ صلی الم کا ظاہری ادب ترک کر دو اور تمہارے دلوں میں ان کی وقعت کم ہو جائے اور اس طرح تم میں تفرقہ اور شقاق اور فساد پیدا ہو جائے اور تمہارا اتحاد جس کی وجہ سے تمہیں طاقت حاصل ہے جاتا رہے۔۔۔۔۔۔فرماتا ہے ان باتوں سے کیا بنتا ہے خدا تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے مختص کر لیتا ہے۔اس وقت اس نے محمد رسول اللہ صلی علی ریم کے ساتھ اپنی رحمت کو مخصوص کر دیا ہے۔پس تم چاہے کتنی گالیاں دے لو خدا کا نبی جیتتا چلا جائے گا کیونکہ اس کے لئے خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی ہوئی ہے وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ میں اس طرف توجہ دلائی کہ اس کی رحمت عام ہے اس لئے اگر تم ایمان لے آؤ تو ہماری رحمت ختم نہیں ہو گئی اگر تم تو بہ کر لو تو تمہیں بھی ہماری رحمت سے حصہ مل جائے گا۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 94-95 مطبوعه ربوہ)