365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 87 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 87

درس القرآن 87 درس القرآن نمبر 71 مَا نَنْسَحْ مِنْ آيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا اَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ اَلَمْ تَعْلَمُ اَنَّ اللهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا لَكُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلي وَلَا نَصِيرٍ (البقرة: 107،108) بنی اسرائیل کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کے سلسلہ میں جو مضمون بیان ہو رہا ہے اس کا ایک اہم پہلو ان دو آیات میں بیان کیا گیا ہے اور وہ مضمون یہ ہے کہ اگر بنی اسرائیل پر جو کلام نازل ہو ا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا جو احکامات حضرت موسیٰ اور سابقہ انبیاء کو دیئے گئے وہ خدا کی طرف سے تھے تو پھر یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ رسول اکرم صلی الیم نے اس کلام اور ان احکامات کی جگہ دوسر ا کلام اور دوسرے احکامات دنیا کو دیئے ہیں اس سوال کا جواب ان دو آیات میں بڑی مضبوطی سے دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بنی اسرائیل پر اترنے والے کلام اور احکامات کو ہم نے منسوخ کیا ہے اور بنی اسرائیل کی بد عملیوں کی وجہ سے ہم نے ہی ان کو بھلایا ہے۔رسول اکرم صلی علیم نے از خود منسوخ نہیں کیا۔ہم نے ہی بنی اسرائیل پر وہ کلام اور وہ احکام نازل فرمائے تھے اور اب ضرورت کے بدلنے پر اور ان کے بھلائے جانے کے بعد ہم نے ہی ان کا نعم البدل اتارا ہے یا بھولے ہوئے حصہ کو جس کا قائم رکھنا ضروری ہے ہم نے ہی مہیا کیا ہے یہ سارا کام خدا کی قدرت سے ہوا ہے کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔یہ تو خدا تعالیٰ کی دائمی سنت ہے ماضی کے صحائف کے مٹ جانے اور بھلائے جانے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صحائف خدا نے اتارے اور اب موسوی صحائف کے مٹ جانے اور بھلائے جانے پر رسول اکرم صلی الی یوم کے ذریعہ کامل کتاب اتاری۔حضرت مصلح موعودؓ دوسری آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔”فرماتا ہے اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں ہم ایک انقلاب عظیم کے پیدا کرنے کے لئے اور ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین پیدا کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی الم کے زمانہ کے کفار کو