365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 85 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 85

درس القرآن 85 درس القرآن نمبر 69 الله سة وَلَوْ أَنَّهُمْ أمَنُوا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ خَيْرٌ لَو كَانُوا يَعْلَمُونَ (البقرة:104) یہ آیت گزشتہ آیات کے مضمون کی تکمیل کے طور پر ہے گزشتہ آیات کا مضمون تھا کہ یہ بنی اسرائیل اس لئے رسول اکرم صلی علیہ علم اور قرآن شریف پر ایمان نہیں لاتے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح بنی اسرائیل کو صدیوں سے جو فضیلت دی جارہی تھی اس میں فرق آجائے گا اور ان کی عظمت نہیں رہے گی۔فرماتا ہے کہ معاملہ بالکل الٹ ہے وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا اگر یہ لوگ ایمان لے آتے مگر صرف ایمان کا لفظی اقرار کافی نہیں وَاتَّقُوا عملی طور پر تقویٰ اختیار کرتے لَمَتُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ خَيْرٌ تو اللہ کی طرف سے جو بدلہ ان کو ملتا وہ اس سے بہت بہتر ہوتا جس عظمت، فضیلت کو اپنے گمانوں سے بچانے کے لئے وہ ایمان نہیں لا رہے لَو كَانُوا يَعْلَمُونَ کاش وہ جانتے کہ اب ایمان لانے والے عظمت و فضیلت پائیں گے اور نہ ماننے والے رسوا ہوں گے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرُنَا وَاسْمَعُوا وَ لِلْكَفِرِينَ عَذَابٌ اليه (البقرة : 105) بنی اسرائیل کی شرارتوں اور سرکشیوں کے ایک اور بہت ہی اہم پہلو کا بیان شروع ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضور صلی علیکم کے خلاف جو ہتھکنڈے یہود نے اختیار کئے ان میں سے ایک نہایت اہم ہتھکنڈے کا ذکر کر کے مسلمانوں کو اس کے بارہ میں توجہ دلائی گئی ہے یہود کی شرارت کی تکنیک یہ تھی کہ مجالس میں ایسے الفاظ کا استعمال کریں جس کے ایک طرف تو بہت اچھے معنے ہوں مگر دوسری طرف اس کے ایسے معنے بھی نکل سکتے ہوں جو بے ادبی پر مشتمل ہوں یا اچھے معنے والے لفظ کو اگر ذرا تلفظ میں ہلکی سی تبدیلی کے ساتھ کہا جائے تو اس کے معنے نامناسب سمجھے جائیں۔مسلمانوں کو اس آیت میں راعِنَا کا لفظ استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ جہاں راعنا کے لفظ کے یہ معنے ہیں ہمارا خیال رکھیئے وہاں یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ آپ ہمارا خیال رکھیں ہم آپ کا خیال رکھیں گے یا اگر راعنا کے لفظ کو تھوڑی سی لفظی تبدیلی کے ساتھ را عینا کر کے پڑھے جائیں تو معنے بن جائیں گے اے ہمارے چرواہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو راعنا نہ کہا کرو بلکہ یہ کہا کرو کہ ہم پر نظر فرما اور ارشاد کیا کہ غور سے سنا کر وایسے کافروں کے لئے جو اس قسم کی شرارت کرتے ہیں درد ناک عذاب ہے۔