365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 82 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 82

درس القرآن 82 رس القرآن نمبر 67 وَ لَقَد أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ أَيْتِ بَيِّنَتٍ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفَسِقُونَ اَوَ كُلَّمَا عَهَدُ وَاعَهْدَ اتَّبَذَة فَرِيقٌ مِنْهُمْ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَ لَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولُ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِقٌ لِمَا مَعَهُم نَبَد فَرِيقٌ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ كِتَبَ اللهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (البقرة:100 تا102) اس بات کے بیان کے بعد کہ بنی اسرائیل قرآن مجید کے انکار اور آنحضرت صلی ال نیم کی تکذیب میں اس انتہا پر پہنچ گئے ہیں کہ اس عظیم الشان فرشتہ جبریل سے بھی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں جو اللہ کی طرف سے تمام روحانی وحی اور رسالت کا واسطہ ہے اور انسانی قلوب پر اور سب سے بڑھ کر حضور صلی نمی کم کے دل پر اللہ کا کلام نازل کرنے کا ذریعہ ہے اور اس فرشتہ سے بھی دشمنی کرتے ہیں جس کا نام میکائیل ہے جو انسانی دماغ کو روحانی علوم و احکام کی حکمتیں سکھاتا ہے حالانکہ جن آیات کا یہ انکار کر رہے ہیں اور جس رسول کی تکذیب کر رہے ہیں اس کی کیفیت یہ ہے کہ وَ لَقَد أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ أَيْت بَيِّنت کہ ہم نے تیری طرف روشن اور واضح آیات اور نشانات اتارے ہیں وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفُسِقُونَ اور وہی لوگ اس کا انکار کر سکتے ہیں جو عہد کر کے اپنے گناہوں کی وجہ سے اس کو توڑنے والے ہیں اور یہ عہد شکنی ان کی تاریخ کا حصہ ہے او كُلَّمَا عَهَدُوا عَهْدًا نَبَذَة فَرِيق مِنْهُم جب بھی انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اس عہد کو پھینک دیا بک اَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ بلکہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْ عِنْدِ اللَّهِ اور اب جو ان کے پاس رسول خاص خدا کے حضور سے آیا ہے مُصَدِّقُ لِمَا مَعَهُمُ اور جو ان کے پاس ہے اس کی تصدیق بھی کرتا ہے اور ان کی پیشگوئیوں کو پورا بھی کرتا ہے۔نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ كِتَبَ اللهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِم تو ان لوگوں میں سے ایک فریق نے جن کو کتاب دی گئی تھی اللہ کی اس کامل کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہے۔گانهُم لَا يَعْلَمُونَ گویاوہ جانتے ہی نہیں یعنی گویا ان کو علم ہی نہیں کہ ان کی اپنی سابقہ کتاب میں اس کتاب کے حق میں پیشگوئیاں ہیں۔