365 دن (حصہ اول) — Page 3
درس القرآن 3 رس القرآن نمبر 2 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ (الفاتحہ : 1) اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت رحم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے جیسا کہ احباب جانتے ہیں قرآن شریف شروع بھی اس آیت سے ہوتا ہے اور پھر قرآن شریف کی سورتیں بھی اس آیت سے شروع ہوتی ہیں۔اس چھوٹی سی آیت میں ایک بہت اہم اور مفید اور ضروری بات قرآن شریف کے متعلق بتائی گئی ہے اور پھر اس آیت کو بار بار دہرا کر اس کا مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو جو سارے انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے اتارا ہے تو یہ سر اسر اللہ تعالیٰ کا دنیا پر احسان ہے ، یہ اس کا فیض اور فضل ہے جو انسانوں کو دیا گیا، نہ کسی انسان نے اس کے لئے کوشش اور محنت کی ، نہ اس کے لئے کوئی عمل کیا، نہ اس کے لئے دعا کی، اللہ تعالیٰ رحمان ہے۔وہ اپنا فضل اور اپنا رحم مخلوق کے کسی کام ، کسی محنت ، کسی کو شش، کسی دعا، کسی استحقاق کے بغیر بھی کرتا ہے، جیسا کہ فرماتا ہے: الرَّحْمٰنُ عَلَمَ الْقُرْآنَ (الرحمن: 2،3) رحمان خدا نے اپنے فضل ور حم سے انسانوں سے نیکی کرتے ہوئے قرآن سکھایا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ رحیم بھی ہے ، رحمانیت بھی اس کی صفت ہے اور رحیمیت بھی اس کی صفت ہے، جو شخص قرآن شریف پڑھتا ہے، اس پر غور کرتا ہے، اس پر ایمان لاتا ہے، اس کے احکامات کو مانتا ہے، ان باتوں سے رکتا ہے، جن سے قرآن مجید روکتا ہے، تو وہ اللہ کی رحیمیت کی صفت سے فیض حاصل کرتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کو بڑھ چڑھ کر انعام دیتا ہے، اس پر رحم کرتا ہے، اس کی دعائیں قبول کرتا ہے، اس کو قرآن شریف کے لطیف اور خوبصورت مضامین سکھاتا ہے۔دیکھیں کس طرح ایک چھوٹی سی آیت میں نہایت لطیف مضامین اختصار سے بیان کر دیئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں شکر کی توفیق دے کہ اس نے محض اپنے فضل سے ہمیں قرآن شریف جیسی نعمت عطا کی اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کی رحیمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرآن شریف پر سچا ایمان لائیں۔قرآن شریف کو پڑھیں اس کا ترجمہ پڑھیں اس کے مضامین پر غور کر کے اپنا علم بڑھائیں اور اس کے حکموں پر عمل کریں اور ان باتوں سے رک جائیں جن سے قرآن منع کرتا ہے۔