365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 53 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 53

درس القرآن 53 رس القرآن نمبر 43 وَاذْ قُلْتُم لِمُوسى لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّعِقَةُ وَانْتُم تَنْظُرُونَ ثُمَّ بَعَثْنَكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (البقرة:56،57) اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو رسول کریم صلی علی کم پر اور قرآن شریف پر ایمان لانے کے لئے بنی اسرائیل کی ماضی کی غلطیاں اور اللہ تعالیٰ کے ان پر احسانات کا ذکر فرماتا ہے۔اس آیت میں ان کی ایک خطر ناک غلطی اور حماقت کا ذکر کر کے اس سے اگلی آیت میں ان پر احسان کا ذکر فرماتا ہے وَ اِذْ قُلْتُم یموسی کہ دیکھو جب تم نے موسیٰ سے کہا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے حتٰی نَرَى اللهَ جَهْرَةً یہاں تک کہ ہم اللہ کو ظاہر و باہر دیکھ نہ لیں فَاخَذَتْكُمُ الصعِقَةُ پس تمہیں آسمانی بجلی نے آپکڑا وَاَنْتُمْ تَنْظُرُونَ اور تم دیکھتے رہ گئے ثُمَّ بَعَثْنَكُم مِّنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ پھر ہم نے تمہاری یہ موت کی سی حالت سے تمہیں اٹھایا لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ تاکہ تم شکر کرو۔ان آیات میں بنی اسرائیل کو یہ توجہ دلائی گئی ہے کہ تم رسول کریم صلی یکم کو ماننے سے انکار کرتے ہو۔قرآن شریف کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہو اور اس کے لئے طرح طرح کے حیلے بہانے کرتے ہو۔سوچو! تم اس قوم کے لوگوں سے تعلق رکھتے ہو جنہوں نے حضرت موسیٰ کو جن کو تم خود نبی مانتے ہو صاف صاف نہیں کہہ دیا تھا کہ ہم تمہاری بات اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک ہم کھلم کھلا اللہ کو نہ دیکھ لیں۔اگر اللہ کو دیکھے بغیر تمہارے باپ دادا نے حضرت موسیٰ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا تو تم نے تو سچائی کے انکار کی عادت ورثہ میں پائی ہے۔تمہارا یہ کہنا کہ یہ وجہ ہے جو ہم رسول اکرم صلی لنی کیم کو نہیں مانتے اور وہ وجہ ہے کہ ہم قرآن شریف کو قبول نہیں کرتے، کوئی مطلب نہیں رکھتا جب تک تم کوئی پختہ دلیل نہ لاؤ کیونکہ اس قسم کے بہانے بنانا تو صدیوں سے تمہاری قوم کی عادت ہے۔