365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 52 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 52

درس القرآن 52 درس القرآن نمبر 42 وَ إِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَومِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمُ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِيكُمْ فَاقْتُلُوا انْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ عِندَ بَارِيكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ الثَّوَابُ الرَّحِيمُ (البقرة:55) پہلی آیات میں اور آئندہ آنے والی آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے کتنے احسانات کئے اور بنی اسرائیل نے ان انعامات کے باوجو د سرکشی کی اور اس سے مقصد یہ ہے کہ اب جو رسول اکرم صلی علیم کی بعثت اور قرآن کریم کے نزول کے ذریعہ دنیا کی سب سے بڑی نعمت تم پر اتاری گئی ہے اس کا انکار کر کے اپنی اس سرکشی کی داستان کو لمبانہ کرتے چلے جاؤ تو اس آیت میں ایک غلط فہمی جو پیدا ہو سکتی تھی اس کو دور کر دیا۔غلط فہمی یہ ہو سکتی تھی کہ اتنی سرکشیاں دیکھ کر بھی خدا خاموش رہا اور ان کی اصلاح کا کوئی سامان نہ کیا اس آیت میں فرماتا ہے کہ جب بنی اسرائیل نے بچھڑا بنا کر شرک جیسا سب سے بڑا گناہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فوراً بنی اسرائیل کی اصلاح کے لئے تعلیم نازل فرمائی، فرماتا ہے۔وَ إِذْ قَالَ مُوسى لِقَوْمِهِ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا يُقَومِ اے میری قوم اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمُ انْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ کہ تم نے اپنی جانوں پر انتہائی ظلم کیا کہ بچھڑے کو معبود بنالیا (کیونکہ جیسا کہ فرمایا ہے اِنَّ الشَّرُكَ لَظُلُمٌ عَظِيمٌ (لقمان:14) کہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے ) تو حضرت موسیٰ نے کہا فتوبوا إلى بَارِيكُمْ کہ تم اپنی روحوں کے بنانے والے کے حضور توبہ کرو فَاقْتُلُوا اَنْفُسَكُم اور اپنے نفسوں کو مارو( یہاں ظاہری قتل کرنا مراد نہیں کیونکہ کسی عقیدہ کو ماننے یا عقیدہ کے مطابق عمل کرنے پر اللہ تعالیٰ اس دنیا میں قتل کی سزا نہیں دیتا) بلکہ اپنے نفس کے غلط خیالات اور ناپاک رجحانات کو مارنے کا ذکر ہے۔ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُم اور تمہارا اپنا فائدہ اسی میں ہے فَتَابَ عَلَيْكُم چنانچہ اللہ تم پر رجوع برحمت ہوا اِنَّه هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ وہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔طور پر