365 دن (حصہ اول) — Page 47
درس القرآن 47 درس القرآن نمبر 39 اَ تَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَبَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (البقرة:45) اہل کتاب خصوصاً یہودیوں کے قرآن شریف کے اترنے اور رسول اکرم صلی ایم کے بھیجے جانے کی وجہ سے بنی اسرائیل اپنے خیال میں اپنی حق تلفی محسوس کرتے تھے اس سوال کا جواب تفصیل سے قرآن شریف میں دیا گیا ہے کیونکہ اسلام سے پہلے بنی اسرائیل کی شریعت اور ان کی مذہبی دنیا سب سے زیادہ اہم سمجھی جاتی تھی اس لئے فرمایا کہ قرآن شریف کا اترنا، رسول اکرم صلی علیم کا بھیجا جانا ، ان وعدوں اور پیشگوئیوں کے مطابق ہے جو تمہاری کتابوں میں اب بھی موجود ہیں۔تم دنیا کے ڈر سے اسلام لانے سے نہ ڈرو۔اس سلسلہ میں بنی اسرائیل کو ایک زبر دست نصیحت کی ہے۔یہود کی عادت وہی ہے اور آج کل پریس پر ان کے قبضہ کی وجہ سے بہت زیادہ ہے کہ دوسروں پر تو اعتراض کرتے ہیں اور دوسروں کو مجرم ٹھہراتے ہیں مگر اپنے گریبان میں نہیں دیکھتے۔فرماتا ہے اَتَأمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ کیا تم لوگوں کو تو اعلیٰ درجہ کی نیکی کا حکم دیتے ہو وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُم اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو وَاَنْتُمْ تَتْلُونَ ور 19991 الكتب حالا نکہ تم کتاب کو پڑھتے ہو اَفَلَا تَعْقِلُونَ تم پھر عقل سے کام کیوں نہیں لیتے۔وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ وَ إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمُ مُلْقُوا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ اِلَيْهِ رجِعُونَ (البقرة:46،47) فرماتا ہے تمہارے اس گناہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا سے اور دنیا والوں سے ڈرتے ہو اور اس سچائی کو قبول نہیں کرتے جس کا وعدہ خود تمہاری کتاب میں موجود ہے۔دنیا سے نہ ڈرو۔وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة بلکہ صبر اور دعا کے ساتھ اللہ کی مدد چاہو ، اخلاق میں صبر کو اور عبادات میں نماز اور دعا کو بلند ترین مقام حاصل ہے ان دونوں چیزوں کو دنیا کے ڈر اور دنیا کی تکلیف سے بچنے کا ذریعہ بناؤ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةُ اور یہ بہت بڑی بات ہے، اس میں شبہ نہیں مگر الا على الخشعین جو لوگ عاجزی اختیار کرتے ہیں ان کے لئے آسان ہو جاتی ہے۔مشکل یہ ہے کہ تم لوگوں نے دنیا کو سب کچھ سمجھ لیا ہے اور