365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 46 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 46

درس القرآن 46 رس القرآن نمبر 38 وَلَا تَلْبِسُوا الحَقِّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرة: 43) بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بے شک تم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سچی تعلیم دی گئی تھی اور اس کا کچھ حصہ تمہارے پاس محفوظ بھی ہے مگر تم نے اس سچائی کو غلط اور بے کار تعلیم کے ساتھ ملا دیا ہے اور حق اور باطل کو خلط ملط کر دیا ہے تمہاری اس تعلیم میں جو ہمارے پاس ہے اس میں ہمارے سب سے بڑے رسول صلی الی یوم کے آنے کی پیشگوئی ہے تم اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اپنی مرضی کی باتیں جو بالکل باطل ہیں، سچائی کے ساتھ ملا جلا رہے ہو وَتَكْتُمُوا الْحَقِّ اور اس طرح تم سچائی پر پردہ ڈال رہے ہو اور پھر تمہارا جرم غلط فہمی کی وجہ سے نہیں تمہیں اچھا بھلا پتہ ہے کہ تمہاری کتاب میں اس عظیم الشان نبی کی جو تمہارے بھائیوں میں سے آئے گا اور موسیٰ کا مثیل ہو گا واضح پیشگوئی موجود ہے۔پس تمہارا یہ جرم وَ انْتُمْ تَعْلَمُونَ تم جانتے بوجھتے ہوئے، علم رکھتے ہوئے کر رہے ہو۔تم سمجھتے ہو کہ اس طرح تم اپنی قوم کی طعن و تشنیع سے بچ جاؤ گے۔یہ نتیجہ ہے تمہارے اعمال کی خرابی کا اس کا اصل علاج ہم تمہیں بتاتے ہیں واقِيمُوا الصَّلوةَ تم نماز کو جو خدا کا حق ہے تمام شرائط کے ساتھ صحیح طریق سے ادا کر و وانوا الزکوۃ اور پھر بندوں کے حقوق ادا کرو جس کی بنیا د ز کوۃ ادا کرنے پر ہے اور یہ ساری باتیں توحید کو صحیح طریق اختیار نہ کرنے کی وجہ سے ہیں خدا کے سامنے جھکنے کے بجائے بندوں کے سامنے جھکنے سے ہیں وَارْكَعُوا مَعَ الركعِينَ (البقرة:44) تم ان لوگوں کے ساتھ جو ہمارے نبی صلی علیکم کو مان کر صحیح رنگ میں توحید پر قائم ہیں اور خدا کے سامنے جھکتے ہیں تم ان لوگوں کے ساتھ خدا کے سامنے جھکو۔تو اس خطر ناک جرم سے جو تم کر رہے ہو کہ سچائی کو جھوٹ سے خلط ملط کر رہے ہو بچ جاؤ گے۔