365 دن (حصہ اول) — Page 36
درس القرآن 36 درس القرآن نمبر 31 وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (البقرة:31) اس آیت کے سادہ ترجمہ و تفسیر سے پہلے جو مضامین اس سورۃ البقرۃ میں اب تک بیان ہوئے ہیں ان کا خلاصہ لکھا جاتا ہے تاکہ ان مضامین کا جوڑ اس آیت سے بتایا جائے جس سے ایک نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔سورۃ البقرۃ کے شروع میں یہ مضمون ہے اللہ نے جو سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یہ کامل کتاب جس میں کوئی کچی بات نہیں، نیک لوگوں کو راستہ دکھانے کے لئے اتاری ہے ، نیک لوگ وہ ہوتے ہیں جو اللہ ، رسول، فرشتے اور مرنے کے بعد زندگی کو مانتے ہیں، ان باتوں کو بھی مانتے ہیں کہ جو اللہ نے رسول اکرم صلی علیم پر اتاریں اور ان کو بھی مانتے ہیں جو پہلے رسولوں پر اتاری گئیں اور اگلے جہان پر اور اس کی سزا جزاء پر پکا یقین رکھتے ہیں اور لوگوں کی بھلائی کے لئے اپنے مال خرچ کرتے ہیں، فرمایا۔پھر کچھ اور لوگ ہیں جو ایسی صاف سچائیوں کا بالکل انکار کر دیتے ہیں جیسے ان کے دل پر مہر لگی ہوئی ہو اور بعض ایسے بھی ہیں جو زبان سے انکار نہیں کرتے بلکہ لوگوں کے ساتھ اقرار کرتے ہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ وہ دل میں بڑے زور سے انکار کرتے ہیں۔- " اس تعارف کے بعد فرمایا کہ اس کتاب کا سب سے ضروری اور بنیادی حکم یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اس سے محبت کرو اسی سے ڈرو اور اپنی طاقت کے مطابق اللہ کی اچھی صفات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرو اگر تم اس اعلیٰ درجہ کی تعلیم کو نہیں مانتے تو پھر اس سے بہتر تعلیم پیش کرو جو تم کبھی نہیں کر سکو گے۔تو پھر انکار کرنے والوں کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہو جاؤ مگر جو لوگ مانتے ہیں اور اچھے کام کرتے ہیں ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ اپنے اچھے کاموں کا پھل پائیں گے۔اس بات پر لوگوں کو شبہ ہو سکتا تھا کہ اللہ کو ہم کیوں مانیں تو اس بارہ میں دو آیات میں اس کی وجوہات بتائی گئی ہیں۔اس کے بعد یہ سوال دلوں میں اٹھ سکتا تھا کہ اب جو تعلیم ہمارے سامنے پیش کی