365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 140 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 140

درس حدیث رس حدیث نمبر 33 140 حضرت ابوہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل الم نے فرمایا: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثلاث تین باتیں منافق کی علامت ہیں۔اِذَا حَدَّثَ كَذَبَ جب وہ بات بیان کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ اور جب وہ وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ اور جب اس کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو وہ بد دیانتی اور خیانت سے کام لیتا ہے۔بخاری کتاب الایمان باب علامة المنافق (33) اس حدیث میں ہمارے نبی صلی اللہ کریم نے اخلاقی کمزوریوں کی نشان دہی فرمائی ہے بعض مذہبی لوگ عبادات کی ظاہری شکل و صورت پر زور دیتے ہیں۔اسلام نے جہاں عبادت پر غیر معمولی زور دیا ہے وہاں اخلاق پر بھی غیر معمولی زور دیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں بار بار یہ فرمایا ہے کہ روحانی عبادات کے مقام کو انسان حاصل نہیں کر سکتا جب تک اخلاق میں اعلیٰ درجہ پر نہ ہو اور اخلاق میں کمال حاصل نہیں کر سکتا جب روزانہ کی انسانی زندگی میں اٹھنے بیٹھنے ، کھانے پینے ، چلنے پھرنے، باتیں کرنے، خاموش رہنے میں جو ضروری آداب ہیں ان کو اختیار نہ کرے۔جن اخلاقی کمزوریوں کا اس حدیث میں ذکر ہے ان میں سے ایک جھوٹ ہے، ایک وعدہ خلافی ہے اور ایک امانت میں خیانت ہے اور یہ تینوں باتیں خاندانی تعلقات میں، معاشرتی تعلقات میں، ملکوں کے تعلقات میں سخت فساد کا باعث ہو سکتی ہیں اور منافقت کسی بھی تنظیم میں گڑ بڑ پیدا کرتی ہے اور یہ تینوں باتیں منافق کی نشانی ہیں۔