365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 139 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 139

درس حدیث رس حدیث نمبر 32 139 حضرت جندب بن جنادہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الم نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔اے میرے بندو! میں نے اپنے نفس پر ظلم حرام کیا ہوا ہے اور تمہارے درمیان بھی اس کو حرام کر دیا ہے اس لئے ایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو۔اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جس کو میں ہدایت دوں پس مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔اے میرے بندو! تم سب بھو کے ہو سوائے اس کے جس کو میں کھانا کھلاؤں، پس مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھانا دوں گا۔اے میرے بندو! تم سب بغیر لباس کے ہو سوائے اس کے جس کو میں لباس دوں پس مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔اے میرے بندو! رات کو بھی گناہ کرتے ہو اور دن کو بھی اور میں سب گناہ بخش دیتا ہوں پس مجھ سے استغفار کرو میں تمہیں بخش دوں گا۔اے میرے بندو! تمہیں میرے نقصان کی طاقت نہیں کہ تم مجھے نقصان پہنچاسکو، نہ ہی تمہیں مجھے نفع پہنچانے کی طاقت ہے کہ تم مجھے نفع پہنچا سکو۔اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے آخری، تمہارے انسان اور تمہارے جن ، تم میں کسی سب سے زیادہ متقی دل والے ہو جائیں تو میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اور اگر تمہارے پہلے اور آخری اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ گناہگار آدمی کے دل پر ہو جائیں، تو میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔اگر تمہارے پہلے اور تمہارے آخری اور تمہارے انسان اور تمہارے جن ایک کھلے میدان میں اکھٹے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر انسان کو جو کچھ وہ مانگ رہا ہے ، دے دوں تو میرے پاس جو ہے اس میں اتنی کمی بھی نہیں ہو گی جتنی سوئی کرتی ہے جب وہ سمندر میں ڈالی جائے۔اے میرے بندو! یہ صرف تمہارے اعمال ہیں جو میں تمہاری خاطر شمار کرتا ہوں۔پھر میں تمہیں پورا پورا دوں گا۔پس جو خیر پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے الٹ پائے تو اپنے نفس کو ملامت کرے۔(مسلم کتاب البر والصلة والآداب باب تحریم الظلم 6572)