365 دن (حصہ اول) — Page 135
درس حدیث 135 درس حدیث نمبر 28 حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلى الم نے فرمایا مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا سَيِّئَتِهِ وَحُطَّتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ریاض الصالحين ابواب المأمورات باب الصبر حدیث 38 دار الكتاب العربي 2005ء) کہ کوئی مسلمان نہیں جس کو کوئی تکلیف پہنچے (کوئی کانٹا چبھے یا اس سے بڑی کوئی تکلیف ہو) مگر اللہ اس کی وجہ سے اس کی برائیاں دور کر دیتا ہے اور اس کے گناہ اس سے گرا دیئے جاتے ہیں جس طرح درخت اپنے پنے گراتا ہے۔آپ لوگوں نے خزاں میں درختوں کے پتے تو گرتے دیکھے ہوں گے۔وہی درخت جو پتوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے خزاں کے موسم کے آنے پر ٹپ ٹپ اس کے پتے گرنے شروع ہو جاتے ہیں اور چند دن میں وہ ٹنڈ منڈ نظر آنے لگتا ہے۔ہمارے نبی صلی العلیم نے یہاں بڑی روشن مثال اس بات کی دی ہے کہ انسان گناہ کرتا ہے، غلطیاں اس سے سرزد ہوتی ہیں، کبھی نمازوں میں سستی ہو جاتی ہے، کبھی انسانوں کے حقوق ادا کرنے میں کمزوری ہو جاتی ہے لیکن اگر وہ تو بہ کرتا ہے، استغفار کرتا ہے تو اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں اسی طرح جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، کبھی بخار ہو جاتا ہے، کبھی کوئی کانٹا چھ جاتا ہے، کبھی چوٹ لگتی ہے، کبھی کوئی مالی نقصان ہو جاتا ہے، کبھی کوئی غم پہنچتا ہے، کبھی کسی عزیز کی موت فوت سے صدمہ ہوتا ہے تو یہ سب باتیں اس کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جاتی ہیں انسان سمجھتا ہے کہ اس کو بہت تکلیف ہے، بہت مصیبت ہے ، وہ روتا دھوتا ہے مگر یہی درد، یہی بیماری، یہی صدمہ، اس کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جاتا ہے اور اس کو دوزخ کی سزا سے بچالیتا ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ ہم نے کتنی واضح مثال دی ہے کہ جس طرح ایک درخت سے خزاں کے موسم میں ٹپ ٹپ پتے گرتے ہیں اسی طرح ایک شخص کے گناہ اس کی تکالیف کی وجہ سے گر جاتے ہیں، معاف ہو جاتے ہیں اور وہ گناہوں اور غلطیوں سے پاک ہو کر ان کی سزا سے محفوظ ہو جاتا ہے۔