365 دن (حصہ اول) — Page 125
درس حدیث ސލ نمبر 19 125 ہمارے نبی صلی علیم نے فرمایا ہے اور یہ حدیث حدیث کی کتاب نمبر 2 صحیح مسلم میں درج ہے کہ آپ نے فرمایا۔اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضّعِيف کہ وہ مومن جو مضبوط اور طاقتور ہو زیادہ اچھا ہے اور اللہ کو زیادہ پیارا ہے اس مومن سے جو کمزور ہو۔( مسلم كتاب القدر باب في الأمر بالقوة وترك العجز واستعانة بالله۔۔۔6774) آپ جانتے ہیں کہ ایک بچے مؤمن کی زندگی مجاہدانہ زندگی ہوتی ہے اس کو دن میں پانچ دفعہ نماز کے لئے بھی جانا ہوتا ہے۔اپنے روز مرہ کے کھانے پینے کے لئے اس کو دیانت داری کے ساتھ محنت کے ساتھ روزی کمانی پڑتی ہے۔اس کو اجازت نہیں کہ جھوٹ کے ساتھ ،رشوت کے ساتھ ، بددیانتی کے ساتھ پیسہ کمائے۔اس کو گھر والوں کی خدمت، ہمسایوں کی دیکھ بھال، غریبوں، کمزوروں کی امداد اور بیمار کی عیادت کا بھی حکم ہے۔اچھا مومن رات کو تہجد بھی پڑھتا ہے ، رمضان کے مہینے میں سارے اور سال میں کبھی کبھی نفلی روزہ بھی رکھتا ہے اگر ج کی توفیق ہو تو سفر اور حج کے ارکان ادا کرنے کے لئے بعض دفعہ مشقت بھی اٹھانی پڑتی ہے۔غرض مومن کی زندگی ہمت اور کوشش اور مجاہدہ کی زندگی ہے۔اگر انسان کی صحت کمزور ہو تو وہ اچھی طرح اپنے فرائض کو جو اللہ نے اس پر لگائے ہیں ادا نہیں کر سکتا اس لئے ہمارے نبی صلی ایم نے فرمایا کہ صحتمند ، مضبوط مسلمان کمزور مسلمان سے بہتر ہے۔ہمارے آج کل کے معاشرہ میں بہت سی باتیں رواج پاگئی ہیں جو اسلام کی تعلیم کے بھی خلاف ہیں اور صحت کو بھی کمزور کرتی ہیں مثلاً رات کو بے کار باتیں کرنے کے لئے جاگنا، حقیقی ضرورت سے زیادہ کھانا کھانا، تمباکو نوشی، لباس اور جسم کی صفائی خصوصاً دانتوں کی صفائی کا خیال نہ رکھنا وغیرہ مگر سچے مسلمان کے لئے ہمارے نبی صلی علی کم کا یہ ارشاد ہے کہ صحت مند اور توانا مسلمان کمزور مسلمان کے مقابلہ میں اللہ کو زیادہ پیارا ہے۔