365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 120 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 120

درس حدیث 120 درس حدیث نمبر 15 ہمارے نبی صلی علم فرماتے ہیں اَلتَّائِبُ مِنَ الذُّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهُ که جس شخص سے کوئی گناہ ہو گیا ہو، پھر وہ اس سے تو بہ کرتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔(سنن ابن ماجہ کتاب الزهد باب ذكر التوبة 4250 ہمارے نبی صلی اللہ نام کا یہ ارشاد گناہ گار لوگوں کے دل میں ایک نئی زندگی پیدا کرنے والا ہے۔انسان کمزور ہے اور گناہ اس سے ہو جاتے ہیں۔لیکن یہ خدا کا فضل ہے اور اس کا بہت احسان ہے کہ اس نے انسان کو مایوس نہیں ہونے دیا۔انسان مایوس ہو کر نا امید ہو کر بعض دفعہ گناہوں میں اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ہماری کتاب قرآن شریف کی یہ خوبی ہے کہ وہ بار بار اللہ تعالیٰ کو غفور اور رحیم کہتی ہے اور انسان کو یہ حوصلہ دلاتی ہے کہ بے شک تم نے گناہ کیا، تم نے غلطی کی لیکن خدا تعالیٰ کی بخشش تمہاری غلطیوں سے زیادہ ہے۔شرط یہ ہے کہ تم سچے دل سے اپنے گناہ پر شر مندہ ہو ، نادم ہو اور آئندہ اس سے بچنے کا سچے دل سے عہد کرو اور سچے دل سے یہ اقرار کرو کہ تم آئندہ یہ گناہ نہیں کروگے اور اگر وہ کوئی ایسا گناہ ہے جس کے نقصان کی تلافی کی جاسکتی ہے مثلاً کسی کا مال کھایا ہے تو تم کوشش کرو کہ اس کے مال کا نقصان پورا کر و۔اگر تم نے کسی کا دل دکھایا ہے تو اس سے اگر مناسب ہو تو معذرت کرو، معافی مانگو۔بہر حال سچی توبہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس غلط راستہ پر کوئی چل رہا ہے اس کو چھوڑ کر واپس آجائے اور اس رستہ کے دوسری طرف چل پڑے۔ہمارے نبی صلی اللہ ہم نے سچی توبہ کی اہمیت کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے گناہ گار بندہ کی تو بہ سے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس طرح وہ بندہ خوش ہوتا ہے جو کسی صحراء میں، کسی ویرانہ میں، اپنی اونٹنی پر جارہاہو، جہاں نہ کوئی آدمی ہے ، نہ آدم زاد، جہاں نہ کھانا ہے نہ پانی اور وہ اونٹنی سوار سفر کرتا ہوا تھک کر کسی جگہ لیٹ جائے اور اس کی آنکھ لگ جائے اور جب اس کی آنکھ کھلے تو وہ دیکھے کہ اس کی اونٹنی غائب ہے اور اس اونٹنی پر اس کا کھانا بھی ہے اور پانی بھی اور سامان بھی۔وہ اونٹنی کو چاروں طرف تلاش کرے