365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 116 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 116

درس حدیث 116 درس حدیث نمبر 11 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ الله أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ قَالَ تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَ تَقْرَءُ السَّلَامَ عَلى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفُ (بخاری کتاب الایمان باب افشاء السلام من الاسلام 28) حضرت عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی علیم سے پوچھا أَى الْإِسْلَامِ خَيْرٌ کہ اچھا اسلام کون سا ہے ؟ قَالَ آپ نے فرمایا تُطْعِمُ الطَّعَام کہ تم کھانا کھلاؤ، وَ تَقْرَءُ السّلام اور سلام کہو ، عَلَى مَنْ عَرَفْتَ اس کو بھی جن سے تمہاری واقفیت ہے وَمَنْ لَمْ تَعْرِفُ اور اس کو بھی جس سے تمہاری واقفیت نہیں ہے۔اس حدیث میں ہمارے نبی صلی الی یکم نے بڑے پیارے انداز میں اسلام کی پیاری بیان فرمائی ہے۔اسلام کی تعلیم کے بہترین حصہ میں سے ایک بات یہ ہے کہ جو شخص طاقت رکھتا ہے وہ ایسے لوگوں کا پیٹ بھرے جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے یا کم ہے۔آج کی دنیا میں بھی جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ دنیا سمجھتی ہے کروڑوں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو رات کو ناکافی غذا کھا کر سوتے ہیں۔دوسری طرف کروڑوں کی تعداد میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے وکتوں کو انسانوں سے اچھی غذا ملتی ہے۔اگر یہ مال و دولت رکھنے والے لوگ ان کو دیں جو پیٹ بھر کر کھانا نہیں رکھتے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔دوسرا مسئلہ آج کی دنیا میں بدامنی کا ہے لوگوں کی جان خطرہ میں ہے۔لوگ اپنے عقیدہ اور اپنی پہچان کے لوگوں کی سلامتی کا تو خیال رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر جو تعلیم ہمارے نبی صلی علیم نے اس حدیث میں دی ہے وہ تو یہ ہدایت دیتی ہے کہ ہر شخص کو خواہ تم اس کو جانتے ہو یا نہ جانتے ہو ، سلامتی کی ضمانت دو اور سلام کہہ کر اس کو یہ تسلی دو کہ تمہاری طرف سے اس کو کوئی خطرہ نہیں۔تمہاری طرف سے اس کی جان بھی محفوظ ہے، اس کا مال بھی محفوظ ہے، اس کی عزت بھی محفوظ ہے، اگر آج کی دنیا ہمارے نبی صلی ایم کے ان دو ارشادات کی طرف توجہ کرے تو دنیا کی حالت بدل سکتی ہے۔