365 دن (حصہ اول) — Page 78
درس القرآن 78 رس القرآن نمبر 64 وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُم وَرَفَعْنَا فَوقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا أَتَيْنَكُمْ بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَ عَصَيْنَا وَاشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمَانُكُمْ إِنْ كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (البقرة:94) حضرت مصلح الموعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔اس میں یہود کی عہد شکنی کی ایک اور مثال بیان کی ہے کہ تم اس وقت کو بھی یاد کرو جب ہم نے موسیٰ کے زمانہ میں تم سے ایک عہد لیا اور عہد بھی ایسی حالت میں لیا جبکہ تم طور کے دامن میں کھڑے تھے جو ایک مقدس مقام تھا مگر پھر بھی تم نے بد عہدی سے کام لیا اور طور کی تقدیس اور اس کی حرمت کا بھی خیال نہ رکھا۔یہ عہد کیا تھا جو بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے خود ہی کر دیا ہے کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور ہماری اطاعت کرو مگر انہوں نے بجائے اطاعت کرنے کے کہا کہ ہم نے بات تو سن لی ہے مگر ہم یہ بھی کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ہم اس کی نافرمانی کریں گے۔یہ ضروری نہیں کہ انہوں نے اپنی زبانوں سے ہی یہ الفاظ کہے ہوں بلکہ ہو سکتا ہے کہ ان کی عملی نافرمانی کا ان الفاظ میں اظہار کیا گیا ہو۔یعنی ان کے اندر روحانی لحاظ سے ایسا بگاڑ تھا کہ وہ ادھر بات سنتے اور ادھر اس کی نافرمانی شروع کر دیتے وَأَشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمْ یعنی ان کے دلوں میں اس ( بچھڑے) کی محبت گھر کر گئی تھی۔قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ اِيْمَانُكُمْ إِن كُنتُم مُؤْمِنِينَ فرماتا ہے اگر تم واقعہ میں ایمان لانے والے ہوتے تو کیا تمہارے ایمان تمہیں اس بات کی اجازت دے سکتے تھے کہ جب موسیٰ چند دنوں کے لئے باہر جاتے تو تم بت پرستی شروع کر دیتے۔پھر تو اس ایمان سے کفر ہی بہتر ہے۔اگر تمہیں ایمان کا دعویٰ ہے تو پھر تو وہ تمہارا ایمان تمہیں بہت برا حکم دیتا ہے کیونکہ تم ابتداء سے ہی اللہ تعالیٰ کے نبیوں کا انکار کرتے چلے آئے ہو اور نبیوں کی مخالفت خواہ زبان سے ہو خواہ اعمال سے کبھی نیک نتائج پید انہیں کرتی پھر اس کے ہوتے ہوئے تم اپنے آپ کو ایمان دار اور مؤمن کیسے کہتے ہو۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 42-43 مطبوعہ ربوہ)