365 دن (حصہ اول) — Page 74
درس القرآن 74 درس القرآن نمبر 60 وَ لَقَدْ أَتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ وَقَفَيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ وَ أَتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيْنتِ وَاَيَّدُ لَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ افَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولُ بِمَا لَا تَهُوَى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرتُه فَفَرِيقًا كَنَّ بِتُم وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَا يُؤْمِنُونَ (البقرة:88،89) بنی اسرائیل کو چھوڑ کر بنی اسماعیل میں نبوت کا قیام صرف مذہبی نہیں بلکہ دنیا کی عام تاریخ میں بھی عظیم الشان تبدیلی تھی جس کے اثرات و نتائج مذہبی اور غیر مذہبی دونوں قسم کی تاریخ میں ظاہر ہوئے اس آیت سے اس مضمون کے ضمن میں بنی اسرائیل کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کے ایک اور پہلو کا بیان ہے جس کا تعلق اس سلسلہ انبیاء سے ہے جو بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے تھے اور بنی اسرائیل نے خود اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کو دکھ دیئے۔فرمایا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو موسیٰ جیسا عظیم نبی دیا جس کو ہم نے کتاب عطا کی ان کو صاحب شریعت نبی بنایا۔اور پھر قفَيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ اور ہم نے رسولوں کا ایک سلسلہ حضرت موسیٰ کے پیچھے چلایا۔یہ رسول ان کی شریعت پر عمل کرنے والے تھے اور بنی اسرائیل کی تاریخ کے لحاظ سے ان میں ایک اہم نبی عیسی ابن مریم تھے جن کو ہم نے کھلے کھلے نشانات دیئے اور پاکیزہ روح کے ساتھ ہم نے ان کی مدد کی۔حضرت عیسی کے خصوصی ذکر کی اس آیت میں یہ وجہ بھی ہے کہ اگرچہ دوسرے انبیاء کی مخالفت اور تکذیب کی مگر حضرت عیسی کی غیر معمولی مخالفت کی داستان سب جانتے ہیں افعلَمَا جَاءَكُمْ رَسُولُ بِمَا لَا تَهْوَى اَنْفُسُكُم جب کبھی تمہارے پاس کوئی رسول آیا جو تمہاری نفس کی گری ہوئی خواہشات کے مطابق تعلیم نہیں لایا تھا تو است بر تم تم نے تکبر سے کام لیا اور فَفَرِيقًا كَذَ بتُم اور کچھ انبیاء کی تم نے تکذیب کی وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ اور کچھ کو تم نے قتل کرنے کی کوشش کی۔اس لئے اب اگر تم رسول اللہ صلی علی یم اور قرآن مجید کی تکذیب کرو تو کیا تعجب کی بات ہے تم سمجھتے ہو وَقَالُوا قُلُوبُنَا خُلف اور کہتے ہو کہ ہمارے دل محفوظ ہیں اسلام کی تعلیم ان میں داخل نہیں ہو سکتی۔نہیں بَلْ لَعَنَهُمُ اللهُ بِكُفْرِهِمْ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کی ہے وَقَلِيلًا مَا يُؤْمِنُونَ اور وہ ایمان کے قریب نہیں جاتے۔ވ و، 17/19