365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 64 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 64

درس القرآن 64 درس القرآن نمبر 52 وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادْرَعْتُم فِيهَا وَاللهُ مُخْرِجٌ مَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا كَذلِكَ يُحْيِ اللهُ الْمَوْتَى وَيُرِيكُمُ ايْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَ إِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهُرُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءِ وَ إِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (البقرة:73 تا75) بنی اسرائیل کے جرائم کی تاریخ کو اس غرض سے بیان کرتے ہوئے کہ وہ ہر گز اس قابل نہیں رہے تھے کہ ان میں نبوت کا سلسلہ جاری رہتا۔خصوصاً وہ نبی ان میں مبعوث ہو جو خاتم الانبیاء اور تمام دنیا کے لئے ہادی ہو۔اب بنی اسرائیل کے جرائم کی چوٹی کا ذکر فرماتا ہے کہ یاد کرو اس وقت کو جب تم نے ایک عظیم الشان نفس کو قتل کیا مراد یہ ہے کہ تم نے اپنی طرف سے پوری طرح قتل کر دیا تھا یہ الگ بات ہے کہ خدا کی خاص تقدیر نے اس کو صلیب کی موت سے بچا لیا تم نے تو عیسی ابن مریم جیسے عظیم نفس کو اپنی طرف سے قتل کر دیا فَاذْرَ وتُهُ فِيهَا پھر تم میں ایک زبر دست سلسلہ بحث مباحثہ ، مناظرہ الزام تراشیوں کا شروع ہوا ( جو آج تک جاری ہے) وَاللهُ مُخْرِج مَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ مگر تمہارے یہ جرائم اور ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کو اللہ تعالیٰ ایک دن نکالنے اور ظاہر کرنے والا ہے۔فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا پس ہم نے کہا کہ اس واقعہ کو اس نفس کے ساتھ ہونے والے بعض واقعات کے ساتھ ملا کر دیکھو كَذلِكَ يُخي اللهُ الموتى اس طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔تم ان کو مردہ سمجھتے ہو حقیقت میں اللہ نے ان کو زندگی دی ہوتی ہے تم نے تو عیسی بن مریم کو مردہ قرار دیا ہے۔بعض نے اس کو نعوذ باللہ لعنتی موت سے مرنے والا قرار دیا۔بعض نے اس کو اپنے گناہوں کا کفارہ قرار دے کر صلیب پر مرنے والا قرار دیا۔مگر خدا نے اس کو صلیب کی موت سے بچایا اور اس طرح وَيُرِيكُم ايته تمہیں آئندہ وہ عظیم الشان نشانات دکھائے گا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ تا کہ تمہیں عقل آوے۔اس واقعہ کا جو تمہاری قتل کی کوشش کا تھا ایک خطرناک نتیجہ یہ نکلا کہ تم سب بنی