365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 8 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 8

درس القرآن 8 رس القرآن نمبر 5 اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحه : 6،7) ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔پچھلے درس میں یہ بیان ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ میں بندے کا اللہ سے تعلق کا نام عبادت رکھا ہے اور فرماتا ہے کہ انسان کی فطرت بولتی ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ (الفاتحہ : 5 ) کہ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں نہ آسمان کی، نہ زمین کی ، نہ کسی بہت کی ، نہ کسی انسان کی، ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور عبادت کے معنے جو سارے قرآن میں تفصیل سے آئے ہیں یہ ہے کہ انسان صرف خدا کی پرستش کرے، خدا کا خوف اپنے دل میں رکھے ، خدا کی محبت سے اس کا سینہ لبریز ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی استطاعت اور اپنے ظرف اور اپنی طاقت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی صفات حسنہ کا نقش اپنے اندر پیدا کرے۔ظاہر ہے کہ یہ بات اگر چہ ضروری ہے مگر بہت مشکل بھی ہے اس لئے اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے بعد فرمایاد ايَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ : 5) کہ ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اور اس کی مدد لینے کا سب سے بڑا ذریعہ دعا ہے اس لئے فرماتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحہ : 6) کہ ہمیں وہ راستہ دکھا جو بالکل سیدھا ہے، جو سب سے درست ہے ، جو سب سے اعلیٰ ہے۔اب یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسی دعا سکھائی ہے جو ہر کام کے لئے، ہر ضرورت کے لئے خدا کے حضور کی جاسکتی ہے۔اس دعا میں یہ ذکر نہیں کہ ہمیں مال دے، ہمیں اولاد دے، ہمیں تقویٰ دے، ہمیں دشمن پر فتح دے بلکہ یہ دعا ہے کہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔اس لئے یہ دعا عبادت کی توفیق ملنے کے لئے بھی کی جاسکتی ہے، صحت و عافیت کے لئے بھی کی جاسکتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ میں ایک بڑی جامع دعا سکھا دی ہے۔بعض لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ مذہبی لوگ صرف دعوی کیا کرتے ہیں اور کچھ کام نہیں کرتے۔اس سوال کا جواب ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے دے دیا ہے کہ تم سیدھے راستہ کی دعا کرو اور یہ نہ سمجھو کہ یہ صرف کھو کھلی دعا ہے۔ہزاروں لاکھوں لوگ دنیا کی تاریخ میں گزر چکے ہیں جن پر اللہ نے یہ انعام کیا اور وہ اللہ کے فضل سے اس سیدھے راستہ پر چلے اور نبی اور صدیق اور شہید اور صالح بننے کا انعام انہوں نے حاصل کیا۔