دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 27
27 تھا۔( بحوالہ مذہب کا سرطان،صفحہ 142-143) یہ مجنون اور سرکش ہجوم کیسے بنا؟ اور جنگل کے درندوں کی طرح قتل پر آمادہ اس لئے ہوئے کہ دیو بندی مولوی سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب اس خیالی دشمن کے بارے میں خیالی رپورٹنگ یوں فرما رہے تھے۔میں مطالبہ کرتا ہوں کہ ربوہ کی خود مختار ریاست پر چھاپہ مارئیے 80,000 ہزارا یکڑ رقبے کے ایک ایک مربع فٹ میں ہزاروں فتنے مدفون ہیں۔ہزاروں سازشیں ہیں۔خطر ناک منصوبے ہیں ملت اسلامیہ کی تخریب کے سامان ہیں۔۔۔حکومت اب بھی راتوں رات چھاپے مارے تو اسے بہت کچھ مل سکتا ہے۔( تقریر مئی 1950ء لاہور ، خطبات امیر شریعت ،صفحہ 52 مرتبہ مرزا غلام نبی صاحب جانباز ناشر مکتبہ تبصرہ بیرون دہلی گیٹ لا ہور طبع اول) پھر فرماتے ہیں: قادیانی نبی کے امتیوں نے ربوہ میں ایک متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے اور ان کے اس نظام کے ماتحت ربوہ میں اسلحہ تیار ہورہا ہے زمین دوز قلع تعمیر ہورہے ہیں۔دریائے چناب کے کنارے ربوہ کو ایک قلعہ بند شہر بنایا جار ہا ہے۔پاکستان کی اس آزاد حکومت میں اس متوازی حکومت کا قیام ناقابل برداشت ہے۔“ ( تقریر لاہور اگست 1952ء ، خطبات امیر شریعت، صفحہ 109۔مرتبہ مرزا غلام نبی صاحب جانباز ناشر مکتبہ تبصره بیرون دہلی گیٹ لاہور طبع اول) یہ تو والد صاحب تھے اور ان کے صاحبزادے جناب سید ابوذر بخاری تو یقینا والد سے بھی دو ہاتھ آگے نکلے۔آپ کی ادارت میں اردو اخبار مزدور ملتان سے شائع ہوتا تھا۔عدالت عالیہ نے اپنے ایک فیصلہ میں والد صاحب کے بعد اس ہونہار فرزندار جمند کی بلند اخلاقی کا ذکر یوں کیا۔ا یک اردو اخبار مزدور ملتان سے شائع ہوتا ہے جس کا ایڈیٹر سید ابوذر بخاری ہے جو مشہور احراری لیڈرسید عطاء اللہ شاہ بخاری کا بیٹا ہے۔اس اخبار کی غالب توجہ صرف احمدیوں کے