دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 26
26 اب احرار کی مہربانی سے واضح ہوئے ہیں۔چونکہ ہم قادیان میں احرار کی تبلیغ کا نفرنس کے انعقاد کو مفادملت کے خلاف سمجھتے تھے اور اس کو انتخاب اسمبلی کا پروپیگینڈہ جانتے تھے لہذا اس کے اعلان میں ہم نے کوئی حصہ نہیں لیا۔“ جھوٹ ہمسخر ، طنز ، پھکڑ بازی، بازاری حملے، رکیک زبان، جھوٹے الزامات اور تبلیغ کا مطلب گالیاں عقل بے چاری حیران و پریشان کھڑی ہے اور کبھی مولوی منظور احمد نعمانی صاحب کی طرف اور کبھی ان کے دوسرے پیٹی بند بھائیوں کی طرف دیکھتی ہے اور پھر ملتجیانہ انداز میں ہولے ہولے لب ہلاتے ہوئے منمناتی ہے کہ آخر وہ کونسی اندھی ، گونگی اور بہری مجبوری ہے۔جس نے حیاء ، تہذیب شرافت، تقومی ، عدل و انصاف، ایمان حتی کہ عقل کو بھی دیوبندی مولوی صاحب کے گھر سے دھکے دے کر باہر نکال دیا ہے؟ آخر وہ کیا ہے؟ مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری جن کی ہذیانی تقاریر نے 1953ء کے سال کو خونی سال بنا دیا۔سینکڑوں احمدیوں کے خون ناحق ہے۔ہزاروں مکان لوٹ لئے گئے۔احراری علماء کی تقاریر اور تحریک نے کیا گل کھلائے حکومت پاکستان کی تحقیقاتی عدالت نے اپنے فیصلے میں اسے اس طرح درج فرمایا۔” اس دن کے واقعات کو دیکھ کر سینٹ بارتھولومیوڈئے‘ یاد آتا تھا ( آگے قتل و غارت لوٹ مار کی لمبی تفصیل درج کرنے کے بعد فرماتے ہیں ) جو عام حالات میں قانون وانتظام کے قیام کے ذمہ دار ہوتے ہیں کا ملاً بے بس ہو چکے تھے اور ان میں 6 مارچ کو پیدا ہونے والی صورت حال کا مقابلہ کرنے کی کوئی گنجائش اور اہلیت باقی نہیں رہی تھی۔انسانوں کے بڑے بڑے مجمعوں نے جو معمولی حالات میں معقول اور سنجیدہ شہریوں پر مشتمل تھے ایسے سرکش اور جنون زدہ ہجوموں کی شکل اختیار کر لی تھی جن کا واحد جذ بہ یہ تھا کہ قانون کی نافرمانی کریں اور حکومت وقت کو جھکنے پر مجبور کر دیں اس کے ساتھ یہ معاشرے کے ادنی اور ذلیل عناصر موجودہ بدنظمی اور ابتری سے فائدہ اٹھا کر جنگل کے درندوں کی طرح لوگوں (احمد یوں ) کو قتل کر رہے تھے ان کے املاک لوٹ رہے تھے اور قیمتی جائیداد کو نذیر آتش کر رہے تھے محض اس لئے کہ یہ ایک دلچسپ تماشا تھا یا کسی خیالی دشمن سے بدلہ لیا جارہا