دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 22
22 کے ملتے ہی مسلمانوں نے اسلام زندہ باد کے نعرے لگائے ہر شخص مسرت و شاداں نظر آتا تھا۔متوفی کے جسم کا ہر عضوعریاں تھا۔لاش قبر سے نکال کر باہر پھینک دی احمدی بچے کی نعش دودن والدین لئے پھرتے رہے ہم نے دفن نہیں ہونے دیا ہم نے احمدی مدفون عورت کی نعش کو اکھیٹر اس کے گھر والوں کے دروازے پر لا کر پھینک دیا ہم مرزائیوں کی میت کی خوب مٹی پلید کرتے ہیں احمدی جنازے والوں کو ہم نے خوب پیٹا اور واپس جا کر گھر کے صحن میں اپنی بیٹی کی نعش کو دفن کیا احمدی نعش قبرستان میں دفن نہیں ہونے دی۔اسلام زندہ باد اور ہر شخص مسرت سے شاداں“ بے چاری عقل پھر وہی سوال دہراتی ہے کہ آخر وہ کون سی ناہنجار مجبوری ہے جس کے سائے نے ان علماء کو انسان تو انسان ، لاشوں کا تقدس بھی بھلوادیا ہے؟ جھوٹ، پھکڑ بازی، اشتعال انگیزی کا استعمال اور اخلاق و سنجیدگی کو طلاق اسلام تو سلامتی اور امن کا مذہب ہے، اخلاق، حیاء ایمان اور دوسروں کے لئے قربان ہو جانے کا نام ہے پھر وہ کونسی منحوس مجبوری ہے جس نے دیوبندی علماء کے لئے یہ تمام دروازے بند کر کے اپنے آپ کو پھکڑ باز اشتعال انگیز سفیبہ و جاہل جیسی مردو حرکتوں کا فخریہ ڈنڈھورا پیٹنے والا بنادیا ؟ آخر وہ مجبوری کیا ہے؟ مشہور دیو بندی عالم دین مولوی محمد الیاس صاحب بانی تبلیغی جماعت کے سالے جناب مولوی محمد احتشام الحسن کاندھلوی صاحب اپنی جماعت اور اس کے بھٹکے ہوئے راستے پر غور کرنے کے بعد انتہائی دکھ سے فرماتے ہیں۔جو کام اہل علم کا ہے وہ ایسے لوگ انجام دینا چاہتے ہیں جو نہ صرف دین سے نا آشنا ہیں بلکه سفاہت و جہالت اور اپنی بدکرداریوں کی وجہ سے معاشرے میں بھی کسی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔‘ (اصول دعوت وتبلیغ صفحہ 4 بحوالہ دیو بند سے بریلی مصنفہ کوکب نورانی اوکاڑوی ،صفحہ 4 ضیاء القرآن پبلی کیشنز ) بلہ مشہور دیوبندی مولوی اللہ یار خان جو ایک بڑے دیوبندی دھڑے کے سر براہ ہیں وہ باقی سارے دیو بندیوں کو سمیت بنوری ٹاؤن، اکوڑہ خٹک، حضوری باغ ملتان اس نظر سے دیکھتے ہیں۔