دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 57
57 دیو بندی موجودہ روش تفسیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھتے ہیں اسی بناء پر نانوتوی صاحب نے ص ۸ پر لکھا ہے چنانچہ اضافت الی النبیین بائیں اعتبار که نبوت منجملہ اقسام مراتب ہے۔یہی ہے کہ اس مفہوم کا مضاف الیہ وصف نبوت ہے زمانہ نبوت نہیں۔۔۔۔پھر اسی کوص ۸ پر یوں بیان کرتے ہیں ” شایان شان محمدی خاتمیت مرتبی ہے نہ کہ زمانی۔اس مضمون کو آگے یوں صراحتاً بیان کیا ہے میری تفسیر کی روسے آپ ﷺ کے زمانے میں بھی کوئی نبی ہوتو بھی ختم نبوت میں کوئی حرج نہیں۔۔بانی دیوبند غرض اختتام بایں معنی تجویز کیا جائے جو میں نے عرض کیا تو آپ کا خاتم ہونا انبیاء گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔( تحذیر الناس ص ۱۴) 66 اس عبارت کا صریح مطلب یہ ہوا کہ۔۔خاتم زمانی )۔۔بقول نانوتوی صاحب اس میں یہ خرابی ہے کہ حضور اس صورت میں صرف انہیں انبیاء علیہم السلام کے خاتم ہونگے جو حضور سے پہلے تشریف لا چکے ہیں لیکن اگر خاتم کا وہ معنی تجویز کیا جائے جو نانوتوی صاحب نے بیان کئے ہیں۔۔۔تو اس میں یہ خوبی اور کمال ہے کہ اگر حضور کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو تو پھر بھی حضور صلی یا کسی تو ویسے ہی خاتم النبین رہیں گے کیونکہ حضور کے زمانے میں جو اور نبی ہوں گے وہ بالذات نہیں بالعرض نبی ہو گے۔یعنی اپنی ذات سے نہیں بلکہ حضور سے ہی فیض حاصل کر کے نبی بنیں گے اس طرح خاتمیت محمدی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔“ التنوير لدفع ظلام التحذير یعنی مسئلہ تکفیر ص 23 میری تفسیر کی روسے آپ ﷺ کے بعد میں بھی کوئی نبی ہوتو بھی ختم نبوت میں کوئی حرج نہیں۔۔بانی دیوبند