دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 58 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 58

58 آگے چل کر بریلوی مولوی غلام علی اوکاڑوی صاحب مولانا قاسم نانوتوی صاحب کے حوالے سے ختم نبوت پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں ” پھر یہی نانوتوی صاحب تحذیر الناس میں لکھتے ہیں ”ہاں اگر خاتمیت بمعنی اتصاف ذاتی بوصف نبوت لیجئے جیسا اس پیچ مدان نے عرض کیا ہے تو پھر سوائے رسول اللہ صلی لا یتیم اور کسی کو افراد مقصود با خلق میں سے مماثل نبوی صلی ا یتیم نہیں کہہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء کے افراد خارجی ( جو انبیاء دنیا میں تشریف لاچکے ہیں ناقل ہی پر آپ کی افضلیت ثابت نہ ہوگی افراد مقدرہ ( وہ نبی جو ابھی دنیا میں پیدا تو نہیں ہوئے لیکن ان کا حضور صلی سیا سیم کے بعد پیدا ہونا مقدر ہے حاشیہ ) پر بھی آپ کی افضلیت ثابت ہو جائے گی۔بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی سل پیام بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اسی زمین کوئی اور نبی تجویز کیا جائے“ تحذیر الناس طبع اول ص ۲۸ طبع ثانی ص ۲۵) اب اس عبارت۔۔۔کا صاف صریح مطلب یہی ہوا کہ۔۔۔جو نبی پیدا نہیں ہوئے اور حضور کے بعد ان کا پیدا ہونا مقدر ہے ان سے حضور کا افضل ہونا ثابت ہو جائے گا اور خاتمیت محمدی میں بھی کوئی فرق نہیں آئے گا۔کیونکہ حضور صلیم کے زمانے کے بعد جو نبی پیدا ہونگے وہ سب کے سب اپنی ذات سے نہیں بلکہ حضور کے واسطے اور حضور ہی کے فیض سے نبی ہونگے“ بعد (التنوير لدفع ظلام التحذیر یعنی مسئله تکفیر ص 23,24) میری تفسیر کی رو سے آپ اس کو میں آنے والے نه صرف انبياء بلكه خاتم النبيين بھی آپ ظل ہونگے۔بانی دیوبند