دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 55
55 ۱۵۔۔حضور علیہ السلام کے سوا تمام انبیاء کی نبوت کو عرضی کہنا چنانچہ موصوف بالذات اور موصوف بالعرض کا مفہوم بیان کرتے ہوئے نانوتوی صاحب ص ۴ پر لکھا ہے الغرض یہ بات بد یہی ہے کہ موصوف بالذات سے آگے سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔چنانچہ خدا کے لئے کسی اور خدا کے نہ ہونے کی وجہ اگر ہے تو یہی ہے یعنی ممکنات کا وجود اور کمالات وجود سب عرضی بمعنی بالعرض ہیں۔انتہی بلفظہ اور عرضی کا معنی خود یہ بیان کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کبھی موجود کبھی معدوم کبھی صاحب کمال اور کبھی بے کمال رہتے ہیں۔سو اس طرح رسول اللہ صلی ل کی ہیلی کی خاتمیت کو تصور فرمائیے یعنی آپ موصوفی بوصف نبوت بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت بالعرض۔اوروں کی نبوت آپ کا فیض۔پر آپ کی نبوت کسی اور کا فیض نہیں۔آپ پر سلسلہ نبوت (بائیں معنی) مختم ہوجا تا ہے۔وصف کا معنی صفت ، نبوت کا پیغمبری ، خاتمیت کا خاتم ہونا، موصوف بالذات وہ ہستی ہے جس کو کوئی صفت اپنی ذات سے بغیر کسی واسطے کے حاصل ہوئی ہو اور موصوف بالعرض وہ ہستی ہے جس کو کوئی صفت اپنی ذات سے نہیں بلکہ کسی دوسرے کے واسطے سے حاصل ہوئی ہو مختم ہو جاتا ہے۔“ التنوير لدفع ظلام التحذیر یعنی مسئلہ تکفیر 18 تا 21) مولوی حسین احمد ٹانڈوی اورختم نبوت مولوی غلام علی صاحب اوکاڑوی نے آگے چل کر ایک اور دیوبندی مولوی حسین احمد ٹانڈوی کو درج کرتے ہیں ثابت کرتے ہیں کہ ان کی تفسیر ختم نبوت بھی آج کے دیو بندیوں سے مختلف اور تحذیرالناس کی ترجمان تھی د حسین احمد ٹانڈوی نے بھی نانوتوی کی اس تحقیق جدید سے مستفید ہوکر یہی کچھ لکھا ہے کہ مثلاً ختم نبوت کے دو معنی ہیں اول ختم زمانی کہ جس کا مطلب ہے کہ خاتم کا زمانہ سب نبیوں کے آخیر میں ہو۔۔۔۔۔۔وہ اپنے پہلے والوں سے افضل ہو یا سب سے کم