دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 32 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 32

32 آیئے آج ہم آپ کو سناتے ہیں 1905ء کے اُس سیاسی و مذہبی کھیل کی کہانی جس نے دیو بندی علماء کی راتوں کی نیند حرام کر دی۔یعنی مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کا علمائے دیو بند پر وہ جوابی حملہ جسے تاریخ اب حسام الحرمین کے نام سے یاد کرتی ہے۔۔۔یعنی بریلوی اور دیو بندی فرقاتی لڑائی کا وہ منظر نامہ جس میں دیوبندی اور بریلوی امت کے علماء ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے کھیل میں احمدیت کو بھی گھسیٹ لیتے ہیں۔مگر یہ گھسیٹنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔آیئے مذہبی دنیائے تاریخ کی ایک اور سیاسی مجبوری دیکھتے ہیں۔بریلوی دیوبندی جھگڑا گزشتہ صدی کے ہندوستان میں بریلوی دیوبندی جنگ اپنے عروج پر تھی۔دیوبندی حضرات بریلویوں کو مشرک، کافر، تو ہم پرست، پیر پرست، میلاد، عرس، قوالی، فاتحہ، نذر، نیاز ، دسواں ، بیسواں، چالیسواں وغیرہ کرنے والے بدعتی ، قبوری کے نام سے یاد کرتے اور انہیں قرآن وحدیث کے ذریعہ توحید کی طرف بلاتے بلکہ ان کو تجدید اسلام کی دعوت دیتے اور انہیں مکہ کے مشرکوں سے بدتر ہونے کا اعلان کرتے۔بلکہ مشہور دیو بندی مولوی عامر عثمانی تو بریلویوں کا تعارف ان الفاظ میں کرواتے نظر آتے تھے۔بريلوى تعارف دیوبندی نظر سے ”بریلویوں سے کچھ بعید نہیں کیونکہ ان کے علم وفکر اور اخلاقی حالت کا جو اندازہ ان کی بے شمار تحریروں سے ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ جہالت وسفاہت کی کوئی قسم ایسی نہیں جن کا صدور ان سے ممکن نہ ہو۔رکیک الکلام ، آوارہ زبان ، گھٹیا پیام ، قرآن وحدیث سے جاہل، منطق و علم کلام و ادب سے نا آشنا، اللہ کی بجائے مردوں اور پیروں فقیروں سے مرادیں مانگنے والے دوسروں کی تحریریں مسح کرنے والے، افتراء پردازی و ہرزہ سرائی میں طاق و ماہر۔اپنے سوا ہر شے ہر شخص کو دوزخ میں دھکا دینے کا رسیا یہی خرافت، فتنہ پروری، ابوالفضولی کفر سازی ، ہرزہ سرائی ان کا دین و مذہب۔“