دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 59 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 59

59 59 پھر اسی مفہوم کو تحذیر الناس میں آگے یوں بیان کیا ہے ”اور انبیاء میں جو کچھ ہے وہ ظل محمدی اور عکس محمدی ہے کوئی کمال ذاتی نہیں “ (ص ۲۹) آگے لکھا ہے " اس صورت میں اگر اصل وظل میں تساوی بھی ہو تو بھی کچھ حرج نہیں کیونکہ افضلیت بوجہ اصلیت بھی ادھر رہے گی“ (تحذیرالناس ص۳۰) ان دونوں عبارتوں کا صریح مطلب بھی یہی ہے کہ اگر حضور صلی لا نیلم کے زمانے میں یا حضور کے بعد نبی پیدا ہوں تو حضور کی خاتمیت میں کچھ فرق نہیں آئے گا کیونکہ وہ نبی حضور ہی کا ظل اور عکس ہوں گے۔بلکہ اگر اصل اور ظل میں تساوی بھی ہو یعنی حضور سی یا یہ بھی خاتم النبیین اور وہ بھی خاتم النبین ہوں تو بھی کچھ حرج نہیں کیونکہ بوجہ اصلی اور ذاتی نبی ہونے کے افضلیت پھر حضور علیہ السلام کے لئے ہی ہوگی (التنویر لدفع ظلام التحذیر یعنی مسئله تکفیر ص 24,25) میری تفسیر کی روسے کسی اور دنیا میں خاتم یین بھی ہوں تو بھی آپ ﷺ کی خاتمیت میں کوئی حرج نہیں۔بانی دیوبند بریلوی مولوی غلام علی اوکاڑوی صاحب مولا نا قاسم نانوتوی صاحب کے حوالے سے مزید انکشاف کرتے ہوئے فرماتے ہیں آگے اور صاف لکھ دیا ”اب خلاصہ دلائل بھی سنیئے کہ در باره وصف نبوت فقط اس زمین کے انبیاء علیہم السلام ہمارے خاتم النبیین سلیم سے اسی طرح مستفید و مستفیض نہیں جیسے آفتاب سے قمر کواکب بلکہ اور زمینوں کے خاتم النبین بھی آپ سے اسی طرح مستفید و مستفیض ہیں یعنی ساتوں زمینوں میں سات خاتم النبیین ہیں مگر چونکہ باقی زمینوں کے خاتم ہمارے حضور علیہ السلام سے ہی فیض حاصل کرتے ہیں جیسے چاند اور ستارے سورج سے اس لئے حضور صلی الہ وسلم کی خاتمیت میں کچھ فرق نہ آئے گا۔“ (تحذیر الناس ص ۳۲)