دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 39
39 پہلے 3 باتیں حرمین کے علماء کو رٹا دیں۔اول : دیوبندی منکر ختم نبوت ہیں۔دوئم : ان کے بانی جماعت احمدیہ سے محبت و اخوت کے تعلقات ہیں اور دونوں کا ختم نبوت پر یکساں موقف ہے۔سوئم : یہ کہ یہ فرقہ گستاخ رسول ہے۔دیوبند کو حرم کے علماء کے مزید 26 سوالوں کا سامنا دیوبندی حضرات نے دوبارہ اپنی طاقت اکٹھی کی اور حرم کے ایک ایک مفتی کے پاس حاضر ہوئے اور بتایا کہ یہ آپ سے ظلم ہو گیا ہے۔ہم ایسے نہیں ہیں۔مولوی احمد رضا خان صاحب نے حوالے تروڑ مروڑ کر پیش کئے ہیں۔اس پر حرم کے علماء نے 26 سوالوں پر مشتمل ایک سوالنامہ تیار کر کے دیوبندیوں کے علماء کے لئے ہندوستان روانہ کر دیا جس میں سوال نمبر 10 تھا کہ کیا آپ حضرات حضور اکرم صلی ایام کے بعد کسی نبی ورسول کو جائز سمجھتے ہیں؟ اسی طرح سوال نمبر 26 کہ آپ حضرات قادیانی ( حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام) کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ جس نے مسیح و نبی ہونے کا دعوی کیا ہے۔یہ سوال اس لئے کیا جارہا ہے۔کہ یہ بریلوی لوگ آپ حضرات کی جانب یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ آپ حضرات اس سے محبت رکھتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں۔( اعلیٰ حضرت حیات اور کارنامے، صفحہ 92-93) دیوبندی تاریخ کاوه TURNING POINT دیو بندی تاریخ کا یہی وہ turning point ہے یہاں وہ مولوی احمد رضا خان بریلوی کی حسام الحرمین سے زچ ہو جاتے ہیں اور یہاں سے پھر وہ ایک طرف ید ختم نبوت کی تفسیر میں احمدی دیو بندی یکساں موقف رکھنے“ M یا احمدیت سے محبت رکھنے“