دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 38
38 سطور بالا میں جناب مولوی محمد قاسم نانوتوی کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔‘( زیرو زبر صفحہ 123 ، مصنفہ ارشد القادری شائع کردہ رومی پبلی کیشنز 38 اردو بازار لاہور ) اسی طرح ارشد القادری صاحب مزید احمدی اور دیو بندی نقطہ نظر کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ قادیانیوں کا یہ دعویٰ اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ وہ حضور اکرم صلی اینم کے خاتم النبین ہونے کا انکار نہیں کرتے بلکہ خاتم النبیین کے اس معنی کا انکار کرتے ہیں جو عام مسلمانوں میں رائج ہے۔اسی بناء پر مولوی محمد قاسم نانوتوی نے بھی عوام کے معنوں کو نادرست قرار دیا آپ تحریر فرماتے ہیں عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلی اینم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانے کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔“ پھر اس پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ا۔لفظ خاتم النبیین کے معنی کی تشریح کے سلسلہ میں جماعت احمد یہ نانوتوی کے مسلک پر ہے۔ii۔مرزا غلام احمد قادیانی اور مولانا نوتوی دونوں کے انداز فکر اور طریقہ استدلال میں پوری پوری یکسانیت ہے۔iii۔اتنی عظیم مطابقتوں کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ اس مسئلہ میں دونوں کا نقطہ نظر الگ الگ ہے۔بلکہ آخر پر اپنا تجزیاتی فیصلہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ اگر قادیانی جماعت کو منکر ختم نبوت کہنا امر واقعہ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس انکار کی بنیاد پر دیوبندی جماعت کو بھی منکر ختم نبوت نہ قرار دیا جائے۔(زیروز بر مصنفه ارشد القادری ایڈیٹر جام نور، صفحہ 122 تا 124 ، روحی پبلی کیشنز 38 اردو بازار لاہور ) دیوبندیوں کو احمدیت کی دشمنی میں نمبر 1 ہونے کا خیال کیوں آیا؟ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔مولوی احمد رضا خان صاحب نے حرم سے نکلنے سے پہلے