دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 28 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 28

28 خلاف تحریک پر مرتکز رہی ہے۔اس نے اپنی اشاعت مورخہ 13 جون 1952ء میں ایک مضمون شائع کیا۔جس میں جماعت احمدیہ کے امام کے متعلق عربی خط میں ایک ایسی پست اور بازاری بات لکھی کہ ہماری شائستگی ہمیں اس کی تصریح کی اجازت نہیں دیتی۔اگر یہ الفاظ احمدی جماعت کے کسی فرد کے سامنے کہے جاتے اور نتیجہ یہ ہوتا کہ کسی کی کھوپڑی توڑ دی جاتی تو ہمیں اس پر ذرہ بھی تعجب نہ ہوتا۔جو الفاظ استعمال کئے گئے وہ پرلے درجے کے مکروہ اور متبذل شوق کا ثبوت ہیں اور ان میں اس مقدس زبان کی نہایت گستاخانہ تضحیک کی گئی ہے جو قرآن مجید اور نبی کریم مال کی ستم کی زبان ہے۔“ (تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ ، صفحہ 159 ) 1953ء میں احمدیوں کے خلاف جن دنوں جھوٹ قتل و غارت اور لوٹ مار اسلام کے نام پر جاری تھی تو اس وقت کے معروف اخبار میں جناب نصر اللہ خاں صاحب عزیز مدیر تسنیم، جناب ممتاز احمد خاں صاحب مدیر آفاق، جناب خلیل احمد صاحب مدیر مغربی پاکستان جناب محمد حبیب اللہ صاحب اوج مدیر احسان، جناب محمد علی صاحب شمسی مدیر سفینہ نے متفقہ طور پر بیان دیتے ہوئے احراری دیو بندی مولویوں کو خوف خدا یاد دلایا۔متفقہ بیان تھا: تحفظ ختم نبوت کے مقصد سے ہر مسلمان کو ہمدردی ہے۔ختم نبوت مسلمان کے ایمان کا جز ہے لیکن اس مقدس مقصد کے نام پر بھنگڑے سوانگ رچانا مغلظ گالیاں نکالنا اور اخلاق سوز حرکتیں کرنا مسلمانوں کے لئے باعث شرم ہے۔“ (روز نامہ آفاق 4 مارچ 1953ء ، صفحہ 6) راولپنڈی کے مشہور اخبار تعمیر اپنے اداریے میں اس دیو بندی خدمت اسلام کو یوں دیکھتا وو مقدس علم کے پیچش اور بازاری گالیاں ن کر رحمتہ للعالمین کے نام پرلوٹ مار توڑ پھوڑ اور آتش زدگی کی وارداتیں اور ساری دنیا کے لئے امن وسلامتی کا پیغام لانے والے کے پرستار ہونے کے دعویداروں کی جانب سے تشد داور بدامنی دیکھ کر کس مسلمان کا