دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 17
17 باب نمبر 2 احمدی بچوں کے تین سوال آخر وہ کون سی نادیدہ مجبوری ہے اور سر بستہ راز ہے جس کے افشاں ہونے کے خوف سے ایک دیو بندی عالم دین جو کلمہ گو بھی ہے قرآن اور سول کی محبت کا دعویدار بھی ہے مگر احمدی دشمنی اور عداوت میں اس قدر اُکھڑ جاتا ہے کہ اپنے آپ کو فخر یہ مشرکین مکہ کا پیروکار بتا نا شروع کر دیتا ہے۔بم مشركين مکہ کے پیروکارہیں جی ہاں ختم نبوت کو ئٹہ کے ناظم اعلیٰ جناب مولوی تاج محمد بھٹی صاحب نے 2 احمدیوں کو کلمہ طیبہ کے بیج لگانے پر تو ہین اسلام کا مقدمہ درج کروا کے جیل بھجوا دیا۔بعد میں جب مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو یہ مولا نا عدالت کے روبرو بڑے فخریہ انداز میں گویا ہوئے۔یه درست ہے کہ حضور کے زمانے میں جو آدمی نماز پڑھتا تھا۔آذان دیتا تھا یا کلمہ پڑھتا تھا اس کے ساتھ مشرک یہی سلوک کرتے تھے جو اب ہم احمدیوں سے کر رہے ہیں۔ان للہ وانا الیہ راجعون ( مصدقہ نقل بیان صفحه گواه 5 استغاثہ نمبر 2 تاج محمد ولد فیروز الدین مجریہ 23 دسمبر 1985ء) غازیان اسلام“ کا نعشوں سے مومنانہ سلوک“ دفن شده احمدی نعش باہر پھینک کر کفن اتار دیا۔دوسرے دن دفن، پھر اکھیٹر پھینکا۔آخر دریا کے کنارے ریت میں دفن جہاں گیدڑوں نے نکال کر آدھا حصہ جسم کا کھالیا، سارے شہر کا بھر پور نظارہ قادیانی کا عبرتناک انجام اور ہماری ” شاندار خدمت اسلام۔۔۔غازیان اسلام کی خدمت پر مبنی رپورٹ۔1946 کی خدمات 1946ء میں جماعت احمدیہ کے ایک فرد مکرم قاسم علی خاں اپنے وطن رام پور میں وفات پاگئے۔