دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 84
84 کے ساتھ مکمل ختم ہو گیا اب دنیا میں کبھی نہ کسی کو ہی کہلوانے کا حق ہے اور نہ ماننے کا “ اب جب حضرت مولانا قاسم نانوتوی نے صفحہ 14 تحذیر الناس میں لکھا کہ 'بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔“ تو بریلوی حضرات فرماتے ہیں کہ چونکہ اب آپ کی وفات کے بعد ناممکنات میں سے ہے کہ دنیا میں کہیں نبی کا وجود ہو اس لئے ایسا فرض کرنا بھی فقرہ کفریہ ہے۔مولانہ الیاس گھمن صاحب نے اس اعتراض کو نمبر 11 میں صفحہ 139 پر جگہ دی ہے مگر وہ اس اعتراض کا جواب دیتے دیتے صاف بتا گئے ہیں کہ اگر منافقت کی معراج دیکھنا ہو تو ہمارے اس عقیدے میں موجود ہے کہ کہاں انی عند اللہ مکتوب خاتم النبيين و آدم لمنجدل فی طینه جیسی حدیث پر بھی جرح کی جاری ہی ہے اور کہاں چار چارا انبیاء کو آپ کی وفات کے بعد زندہ بقید حیات مانا جا رہا ہے۔بريلوى بهائیو! زمین پرختم نبوت کےبعدایک بھی نبی نہیں ہوسکتاتوکیاچارہوسکتے ہیں؟۔دیوبندی جواب“ مولانہ الیاس گھمن صاحب فرماتے ہیں اعتراض نمبر 11 : جب اہل السنتہ دیو بند کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ حضرت نے تینوں عبارتوں کو آگے پیچھے کیوں کیا؟ تو بریلوی علامہ قسم شاہ بخاری کود کر میدان میں آٹپکے اور کہنے لگے وہ تین عبارات علیحدہ علیحدہ بھی مستقل طور پر کفر یہ ہیں۔( حاشیہ جسٹس کرم شاہ کا تنقیدی جائزہ، صفحہ 135) ابو کلیم محمد صدیق خانی بھی چلایا کہ تحذیر الناس کی تینوں عبارتیں اپنی اپنی جگہ پر مستقل کفریہ عبارتیں ہیں۔( افتخار اہلسنت ،صفحہ 25) الجواب بعون الملک الوھاب پہلی عبارت تحذیر الناس کی جو اعلیٰ حضرت نے پہلے لکھی